ہے جو کچھ پاس اپنے سب لیے سرکار بیٹھے ہیں
ہے جو کچھ پاس اپنے سب لیے سرکار بیٹھے ہیں
جو چاہیں آپ لے جائیں سر بازار بیٹھے ہیں
مناؤ جشن منزل پر پہنچ جانے کا تم لیکن
خبر ان کی بھی لو یارو جو ہمت ہار بیٹھے ہیں
تو اب اس شہر بھی جا کر سکوں پائے گا کیا آخر
وہاں بھی کون سے اے دل ترے غم خوار بیٹھے ہیں
نہ تو آیا نہ یاد آئی تری اک لمبے عرصے سے
ہزاروں کام ہونے پر بھی ہم بیکار بیٹھے ہیں
انہیں سے نام ہے تیرا نہ بھول اتنا اے یہ ساقی
ترے میخانے میں اب بھی کچھ اک خوددار بیٹھے ہیں
گئے وہ وقت کہتے تھے کہ اتنے دوست ہیں اپنے
مقدر جانیے اچھا اگر دو چار بیٹھے ہیں
کسی بھی وقت آ سکتا ہے اب پیغام بس اس کا
سنا جس وقت سے ہم نے سلیلؔ تیار بیٹھے ہیں