خدا کہہ کہہ کے جس پر جان وارے جا رہے ہیں
خدا کہہ کہہ کے جس پر جان وارے جا رہے ہیں
نہ جانے کون ہے کس کو پکارے جا رہے ہیں
یہ کیا کم ہے کہ زندہ ہے تمہارے بعد بھی ہم
کہ اس پہ ہجر کے یہ دن گزارے جا رہے ہیں
کسی جانب سے تم بھی دو ہمیں آواز جاناں
ہمیں تم کو اندھیرے میں پکارے جا رہے ہیں
بہ جز اک جنگ کے پھر جیتنے کو کیا رہے گا
جنون جنگ میں ایمان ہارے جا رہے ہیں
کہاں اب جا کے ہم بیٹھیں گے روئیں گے ہنسیں گے
سنا ہے یہ کھنڈر سارے سنوارے جا رہے ہیں
مجھے ان رت جگوں سے تو پریشانی نہیں ہے
یہی غم ہے کہ میرے خواب مارے جا رہے ہیں
کسی دریا میں ہم ٹھہرے ہوئے یہ دیکھتے ہیں
بڑی رفتار سے دونوں کنارے جا رہے ہیں
چلو اس رات کا قصہ ہوا اب ختم یارو
تھکے ہارے ہوئے شب کے ستارے جا رہے ہیں