نرم پھولوں سے کبھی خار سے لگ جاتے ہیں

نرم پھولوں سے کبھی خار سے لگ جاتے ہیں
ہم وہ جگنو ہیں جو دیوار سے لگ جاتے ہیں


دو یتیموں کی محبت ہے یہ جو اڑتے ہوئے
خشک پتے مرے رخسار سے لگ جاتے ہیں


اتنی ہمدردی سے مت دیکھ مری آنکھوں میں
کچھ مرض دیدۂ بیمار سے لگ جاتے ہیں


جب تصور کے خرابے میں تو آ جاتا ہے
اندر اندر کئی بازار سے لگ جاتے ہیں


روز رونا ہے جنہیں شانہ کہاں تک ڈھونڈھے
ہم تو روتے ہوئے دیوار سے لگ جاتے ہیں