ہم نے خود چھیڑا ہے زخموں کو ہرا رکھنا تھا

ہم نے خود چھیڑا ہے زخموں کو ہرا رکھنا تھا
خود کو اک شخص سے تا عمر خفا رکھنا تھا


تنگ دامانی میں دم گھٹتا ہے دیوانوں کا
عشق ہم سے تھا تو پھر دل بھی بڑا رکھنا تھا


ہنستے گاتے ہوئے دن گزرا ہے ہم لوگوں کا
رات کو اور ذرا کرب زدہ رکھنا تھا


کم سے کم روشنی کا دعویٰ نہیں کرتے تم
جب چراغوں کے مقدر میں ہوا رکھنا تھا


رنگ اداسی کے نہ جائیں گے چلو مانا مگر
کم سے کم کمرے کا حلیہ تو نیا رکھنا تھا


ایک امید جگا رکھنی تھی رکنے کے لیے
اس کو تھوڑا سا تو دروازہ کھلا رکھنا تھا


جان لے لے گا فراق اب کہ سر عشق تمہیں
دل چلو ٹھیک مگر جسم جدا رکھنا تھا


روز تو آتے نہیں اہل عزا بستی میں
ان کی خاطر تو کوئی درد نیا رکھنا تھا