کیا اسی طور ہی یہ سارا سفر جانا ہے

کیا اسی طور ہی یہ سارا سفر جانا ہے
کیا کہیں رکنا نہیں یوں ہی گزر جانا ہے


میں ترے روح کا عاشق ہوں مگر جانتا ہوں
تیرا یہ شوخ بدن بھی مرے سر جانا ہے


دشت کی خاک ہوں میں میرا کہاں خود کا سفر
طے کرے گی یہ ہوا مجھ کو کدھر جانا ہے


شرط یہ تھی کہ نہ بچھڑیں گے کبھی جیتے جی
یہ نہیں تھی کہ بچھڑ جائیں تو مر جانا ہے


اب رہ عشق میں ہم کھو بھی اگر جائیں تو کیا
کس کو اس دشت سے پھر لوٹ کے گھر جانا ہے


وہ تمہیں یاد کرائے گا پرانی باتیں
اے دل سادہ تمہیں صاف مکر جانا ہے


یہ مرا پہلا سفر تھا سو بھٹکنا ہی پڑا
کون یہ مجھ کو بتاتا کے کدھر جانا ہے


بس کسی طرح تمہیں پار کرا دیں اک بار
پھر سفینوں کو سمندر میں اتر جانا ہے