کرشن پرویز کی غزل

    کیسے دل کا کہا کرے کوئی

    کیسے دل کا کہا کرے کوئی دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی غم تو لاکھوں دئے ہیں دنیا نے اب دوا بھی عطا کرے کوئی کام آئیں نہ وقت پڑنے پر ایسے یاروں کا کیا کرے کوئی ہم وفا کی روش نہ بدلیں گے لاکھ ہم پر جفا کرے کوئی ایک دل ہے اسے بھلا کیوں کر درد میں مبتلا کرے کوئی غم گساری تو اٹھ گئی ...

    مزید پڑھیے

    زمانے میں کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملتا

    زمانے میں کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملتا مگر محفوظ کوئی جسم کوئی سر نہیں ملتا ہے اپنے آپ میں سمٹا ہوا ہر شخص دنیا میں کوئی کھل کر نہیں ملتا کوئی ہنس کر نہیں ملتا سکوں کے واسطے ہر سو بھٹکتی پھر رہی دنیا دوا ہو کارگر جس کی وہ چارہ گر نہیں ملتا گنہ کتنے کئے اہل سیاست نے مگر پھر ...

    مزید پڑھیے

    کیوں خوف سا آتا مجھے دیوار سے در سے

    کیوں خوف سا آتا مجھے دیوار سے در سے وہ ٹوٹا مکاں اچھا تھا اس کانچ کے گھر سے کچھ لوگ اندھیرے میں چلے جانب منزل ہم گھر سے نکلتے ہی نہیں دھوپ کے ڈر سے دیتا ہی نہیں ساتھ بڑے وقت میں کوئی جھڑ جاتے ہیں پتے بھی خزاں میں تو شجر سے سچائی کا دعویٰ جو کیا کرتے تھے ہر دم وہ لوگ بھی خاموش رہے ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی ان کا خیال آیا ہے

    جب بھی ان کا خیال آیا ہے دل پہ کیف و سرور چھایا ہے لوگ پھولوں کو بھی مسلتے ہیں ہم نے کانٹوں سے گھر سجایا ہے یوں تو خوشیاں بھی تھیں محبت میں درد ہی دل کے کام آیا ہے ہر خوشی ایک خواب ہو جیسے زندگی جیسے کوئی سایہ ہے سارا عالم نشے میں ڈوب گیا تم نے آنکھوں سے کیا پلایا ہے اف تراشا ...

    مزید پڑھیے

    کسی صورت نظر کی فتنہ سامانی نہیں جاتی

    کسی صورت نظر کی فتنہ سامانی نہیں جاتی بجھے جاتے ہیں دل چہروں کی ویرانی نہیں جاتی خدا کا نام لینے کو تو لیتے ہیں سبھی لیکن خدا کی بات دنیا میں کہیں مانی نہیں جاتی مرے چہرے کے خد و خال کیا پہچانتا کوئی کہ خود اپنی ہی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی حقیقت خود بہ خود روشن ہوئی ہے سات ...

    مزید پڑھیے

    آرزو باقی نہیں کوئی خوشی باقی نہیں

    آرزو باقی نہیں کوئی خوشی باقی نہیں بجھ گئی ہے شمع دل اب روشنی باقی نہیں اے امیدو سو بھی جاؤ شام غم ڈھلنے لگی اب نشاط زندگی میں دل کشی باقی نہیں پہروں احساس غریبی پر تھا جھنجھلایا کبھی لاشۂ احساس میں اب تشنگی باقی نہیں گیت بکھرائے تھے میں نے راہ الفت میں کبھی اب شکستہ ساز ہوں ...

    مزید پڑھیے

    دل پتھر کے لب پتھر کے

    دل پتھر کے لب پتھر کے جس کو دیکھو سب پتھر کے گلیاں چوکھٹ دیوار و در اس بستی میں سب پتھر کے کب بھیگی ہیں ان کی پلکیں دل پگھلے ہیں کب پتھر کے بیت گئے پھولوں کے موسم لوٹ آئے دن اب پتھر کے انسانوں کی بات کو چھوڑو مندر مسجد سب پتھر کے لوٹ آیا ہے عہد ماضی چرچے روز و شب پتھر کے جن کو ...

    مزید پڑھیے

    سیاست میں اداکاری تو پہلے سے بھی بڑھ کر ہے

    سیاست میں اداکاری تو پہلے سے بھی بڑھ کر ہے ہر اک لیڈر میں مکاری تو پہلے سے بھی بڑھ کر ہے کوئی بھی کام آسانی سے ہو جائے نہیں ممکن ہر اک دفتر میں دشواری تو پہلے سے بھی بڑھ کر ہے کروڑوں کا ہے ٹھیکا خرچ ہوتے ہیں مگر لاکھوں یہ بندر بانٹ سرکاری تو پہلے سے بھی بڑھ کر ہے ہر اک لیڈر کا ...

    مزید پڑھیے