زمانے میں کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملتا

زمانے میں کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملتا
مگر محفوظ کوئی جسم کوئی سر نہیں ملتا


ہے اپنے آپ میں سمٹا ہوا ہر شخص دنیا میں
کوئی کھل کر نہیں ملتا کوئی ہنس کر نہیں ملتا


سکوں کے واسطے ہر سو بھٹکتی پھر رہی دنیا
دوا ہو کارگر جس کی وہ چارہ گر نہیں ملتا


گنہ کتنے کئے اہل سیاست نے مگر پھر بھی
کوئی الزام اب تک تو کسی کے سر نہیں ملتا


جہاں پر دو گھڑی پرویزؔ ہم آرام کر لیتے
تمہارے شہر میں ایسا کوئی بھی گھر نہیں ملتا