جب بھی ان کا خیال آیا ہے
جب بھی ان کا خیال آیا ہے
دل پہ کیف و سرور چھایا ہے
لوگ پھولوں کو بھی مسلتے ہیں
ہم نے کانٹوں سے گھر سجایا ہے
یوں تو خوشیاں بھی تھیں محبت میں
درد ہی دل کے کام آیا ہے
ہر خوشی ایک خواب ہو جیسے
زندگی جیسے کوئی سایہ ہے
سارا عالم نشے میں ڈوب گیا
تم نے آنکھوں سے کیا پلایا ہے
اف تراشا ہوا حسین بدن
خود خدا نے تمہیں بنایا ہے
جھوٹی باتوں سے دل بہلتا ہے
سچی باتوں نے دل جلایا ہے
وقت کی مار بھی عجب شے ہے
اچھے اچھوں کو ہوش آیا ہے
غم جو پرویزؔ دل کا محرم تھا
وہ بھی اپنا نہیں پرایا ہے