دل پتھر کے لب پتھر کے

دل پتھر کے لب پتھر کے
جس کو دیکھو سب پتھر کے


گلیاں چوکھٹ دیوار و در
اس بستی میں سب پتھر کے


کب بھیگی ہیں ان کی پلکیں
دل پگھلے ہیں کب پتھر کے


بیت گئے پھولوں کے موسم
لوٹ آئے دن اب پتھر کے


انسانوں کی بات کو چھوڑو
مندر مسجد سب پتھر کے


لوٹ آیا ہے عہد ماضی
چرچے روز و شب پتھر کے


جن کو اپنا رب سمجھا تھا
وہ بھی نکلے سب پتھر کے


ان سے کیا پرویزؔ کہیں ہم
لوگ ملے ہوں جب پتھر کے