کیسے دل کا کہا کرے کوئی
کیسے دل کا کہا کرے کوئی دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی غم تو لاکھوں دئے ہیں دنیا نے اب دوا بھی عطا کرے کوئی کام آئیں نہ وقت پڑنے پر ایسے یاروں کا کیا کرے کوئی ہم وفا کی روش نہ بدلیں گے لاکھ ہم پر جفا کرے کوئی ایک دل ہے اسے بھلا کیوں کر درد میں مبتلا کرے کوئی غم گساری تو اٹھ گئی ...