ہم نے کہنے کو تمہیں دل سے بھلایا ہوا ہے

ہم نے کہنے کو تمہیں دل سے بھلایا ہوا ہے
بس یہی داغ ہے سینے میں چھپایا ہوا ہے


اب گرے گی بھی تو کیسے کہ بہت صبر کے ساتھ
ہم نے دیوار کو ہاتھوں سے بنایا ہوا ہے


بات کرنے کو بہت دیر سے سوچا اس سے
جس کی تحریر کو آنکھوں میں بسایا ہوا ہے


چشم بے عیب میں اس کا ہی سراپا کیوں تھا
جس کا غم حد تمنا میں سمایا ہوا ہے


خواہش قرب کے پیوند ہیں ہاتھوں میں مرے
اے جنوں زاد مجھے کتنا ستایا ہوا ہے


کوئی کہتا ہے رفاقت نہیں ملنے والی
کوئی کہتا ہے وہ دہلیز پہ آیا ہوا ہے


وصل کی شام کا اندازہ بہت مشکل تھا
ہم نے پوچھا تھا مگر اس نے چھپایا ہوا ہے