Kishwar Naheed

کشور ناہید

پاکستانی شاعرہ ، اپنے تانیثی خیالات اور مذہبی کٹرپن کی مخالفت کے لئے مشہور

Renowned woman poet from Pakistan known for her bold views on women and her strong stand against religious fundamentalism.

کشور ناہید کے تمام مواد

50 غزل (Ghazal)

    سنبھل ہی لیں گے مسلسل تباہ ہوں تو سہی

    سنبھل ہی لیں گے مسلسل تباہ ہوں تو سہی عذاب زیست میں رشک گناہ ہوں تو سہی کہیں تو ساحل نایافت کا نشاں ہوگا جلا کے خود کو تقاضائے آہ ہوں تو سہی مجال کیا کہ نہ منزل بنے نشان وفا سفیر خود نگراں گرد راہ ہوں تو سہی صدا بہ دشت بنے گی نہ یہ لہو کی تپش لہو کے چھینٹے مگر گاہ گاہ ہوں تو سہی

    مزید پڑھیے

    دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت

    دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت زندگی دے کے ہوئی شعلہ فشانی رخصت تم نے جب شمع بجھائی تو سمجھ میں آیا ایک موہوم سا رشتہ تھا سو وہ بھی رخصت میں اداسی سر بازار بھی لاؤں ایسے جیسے پانی کی تمنا میں ہو کشتی رخصت میرے اصرار پہ موجود تھا گھر پہ لیکن اس نے خاموش لباسی میں لکھی تھی ...

    مزید پڑھیے

    یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا

    یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا لیکن در خواہش کو بھی کھلنے نہیں دیتا یہ رسم ہے دیوار و در گریہ کی لیکن دریوزہ گر خواب تو رونے نہیں دیتا آشوب ہے ایسا کہ سراسیمہ ہے وحشت یہ عجز بیاں زخم بھی دھونے نہیں دیتا ہاں منزل امید بھی نزدیک تھی لیکن غم خانۂ جاناناں بہلنے نہیں ...

    مزید پڑھیے

    سرخی بدن میں رنگ وفا کی تھی کچھ دنوں

    سرخی بدن میں رنگ وفا کی تھی کچھ دنوں تاثیر یہ بھی اس کی دعا کی تھی کچھ دنوں ڈھونڈے سے اس کے نقش الجھتے تھے اور بھی حالت تمام کرب و بلا کی تھی کچھ دنوں کاغذ پہ تھا لکھا ہوا ہر حرف لب کشا تحریر جسم صوت و ادا کی تھی کچھ دنوں شاخوں پہ کونپلوں کو زبانیں عطا ہوئیں یہ دلبری بھی دست صبا ...

    مزید پڑھیے

    تمہاری یاد میں ہم جشن غم منائیں بھی

    تمہاری یاد میں ہم جشن غم منائیں بھی کسی طرح سے مگر تم کو یاد آئیں بھی چھلک ہی پڑتے ہیں خود ہی گلاب آنکھوں کے وہ پاس آئیں تو یہ داستاں سنائیں بھی ہر ایک لمحہ یہی بیکلی سی ہے دل میں کہ ان کو یاد کریں ان کو بھول جائیں بھی جوان گیہوں کے کھیتوں کو دیکھ کر رو دیں وہ لڑکیاں کہ جنہیں ...

    مزید پڑھیے

تمام

23 نظم (Nazm)

    کچھ اگر ہے تو ملے

    خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے مجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے خواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زاد خواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے داد کتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفق خون کی آنچوں سے دہک کر پھیلے آتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھی اندیشوں سے انجان لگے جاگے خدشے بھی خد ...

    مزید پڑھیے

    گدھے نے بجائی بانسری

    ہاتھوں میں دستانے پہنے گلے میں بش شرٹ ڈالی ناک نتھنے چوڑے کر کے گدھے نے دم اکڑائی چلا مٹک کے ٹھمک ٹھمک خود ہی گاتا ہنستا دیکھ کے اک لکڑی کا ٹکڑا گدھے نے جھک کے پکڑا منہ سے جو ہی لگائی اس نے بانسری بولی ''پیں پیں'' سن کے یہ آواز گلہری خوشی سے بولی ''چیں چیں'' اب تو جنگل جنگل ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے خواہشوں کے سارے پرندے اڑا دیے ہیں

    شروع شروع میں اچنبھے اچھے لگتے تھے شوق بھی تھا اور دن بھی بھلے تھے اچھے لوگوں سے ملنے کا شوق جنون کی حد تک ہر لمحہ بیتاب لیے پھرتا تھا جب کوئی اپنا ہیرو اپنے آدرش کا پیکر سامنے آتا جی یہ چاہتا آنکھیں بچھائیں دل میں بٹھائیں باتیں سنیں اتنی باتیں سیل زماں سے اونچی باتیں دل کے گہرے ...

    مزید پڑھیے

    نفی

    میں تھی آئینہ فروش کوہ امید کے دامن میں اکیلی تھی زیاں کوشش ثریا کی تھی ہم دوش مجھے ہر روز ہمہ وقت تھی بس اپنی خبر میں تھی خود اپنے میں مدہوش میں وہ تنہا تھی جسے پیر ملانے کا سلیقہ بھی نہ تھا میں وہ خودبیں تھی جسے اپنے ہر اک رخ سے محبت تھی بہت میں وہ خود سر تھی جسے ہاں کے اجالوں ...

    مزید پڑھیے

    کڑے کوس

    حرف گویائی کی زنجیر میں جب قید ہوا اسم بنا عہد بنا نظم بنا قصۂ کام و دہن کا غم مطلوب بنا خوب و نا خوب بنا حرف نا گفتہ مگر ذہن کا آزار بنا دل کی دیوار بنا راہ دشوار بنا قصۂ شوق کی وارفتہ کہانی نہ بنا حیلۂ وصل کی غم دیدہ نشانی نہ بنا وار ہے منزل گویائی سبھی جانتے ہیں حرف نا گفتہ کے یہ ...

    مزید پڑھیے

تمام