Khwaja Ahmad Abbas

خواجہ احمد عباس

پدم شری ، فکشن نویس ،صحافی ،ہدایت کار،مکالمہ نگار،اپٹا کے بانی رکن،شری 420اور میرا نام جوکر جیسی فلموں کے لیے مشہور

خواجہ احمد عباس کی رباعی

    نیلی ساڑی

    بمبئی: چونتیس کم عمر لڑکیاں تین قحبہ خانوں میں سے پچھلے ہفتے برآمد کی گئیں۔ ان میں سے تین کے چہرے کو ایذا پہنچانے کے لیے تیزاب سے جلا دیا گیا تھا۔ پولیس نے پانچ عورتوں کو رنڈی خانوں کو چلانے اور طوائفوں کی آمدنی پر رہنے کے جرم میں گرفتار کر لیاہے۔ (ایک خبر) حضور۔ میں سچ کہوں ...

    مزید پڑھیے

    آئینہ خانے میں

    ساٹھ برس تک وہ مجھ سے کتراتا رہا۔ مگر پھر آخر ایک دن ہمارا آمنا سامنا ہو ہی گیا۔ میں نے کہا، ’’بات کیا ہے؟ میں نے توکبھی تمہیں قرض نہیں دیا۔ پھر ہمیشہ کیوں مجھ سے آنکھیں چراتے ہو؟‘‘ اس نے کہا، ’’میں تم سے شرماتا بھی ہوں، ڈرتا بھی ہوں۔ مگر میں تم سے نفرت نہیں کرتا۔ کبھی کبھی تو ...

    مزید پڑھیے

    ماں کا دل

    ایک فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔سٹوڈیو میں حسب معمول ہنگامہ تھا۔ ہیرو کے سر پرنقلی بالوں کی ’’وِگ‘‘ بٹھائی جارہی تھی۔۔۔ ہیروئن بار بار آئینہ میں اپنی لپ سٹک کا معائنہ کر رہی تھی۔ ڈائریکٹر کبھی ڈائیلاگ رائٹر سے الجھ رہا تھا تھا کبھی کیمرہ مین سے۔ پروڈکشن منیجر اکسٹرا سپلائر سے ...

    مزید پڑھیے

    اجنتا

    ’’اجنتا ہندوستان کے آرٹ کی معراج ہے، دنیا میں اس کا جواب نہیں ہے۔۔۔ بڑے بڑے انگریز اور امریکن یہاں آکر دم بخود رہ جاتے ہیں۔۔۔ یہ غار ڈیڑھ ہزار سال پرانے ہیں۔ ان کو کھودنے، تراشنے، ان میں مجسمے اور تصویریں بنانے میں کم سے کم آٹھ سو برس کا عرصہ لگا ہوگا۔۔۔ مہاتما بدھ کے اس مجسمے ...

    مزید پڑھیے

    واپسی کا ٹکٹ

    انسان نے انسان کو ایذا پہنچانے کے لیے جو مختلف آلے اور طریقے اختیار کیے ہیں ان میں سب سے زیادہ خطرناک ہے ٹیلی فون! سانپ کے کاٹے کا منتر تو ہوسکتا ہے مگر ٹیلی فون کے مارے کو تو پانی بھی نہیں ملتا۔ مجھے تو رات بھر اس کمبخت کے ڈر سے نیند نہیں آتی کہ صبح سویرے نہ جانے کس کی منحوس آواز ...

    مزید پڑھیے

    آج کے لیلیٰ مجنوں

    ایک تھی لیلیٰ، ایک تھا مجنوں۔ مگر لیلیٰ کا نام لیلیٰ نہیں تھا، للی تھا، للی ڈی سوزا۔ وہ دونوں اور ان کے قبیلے صحرائے عرب میں نہیں رہتے تھے۔ ماہم اور باندرہ کے بیچ میں سڑک کے نیچے اور کھاری پانی کی کھاڑی کے کنارے جو جھونپڑیوں کی بستی ہے وہاں رہتے تھے۔ مگر صحرائے عرب کی طرح اس ...

    مزید پڑھیے

    سونے کی چار چوڑیاں

    بارش نے رات کے اندھیرے کو اور گہرا کردیا تھا۔ ایسا لگتا ہے (سڑک کے کنارے پیڑ کے نیچے کھڑے ہوئے شنکر نے سوچا) بھگوان بھی بادلوں کا لحاف اوڑھ کر سوگیا ہے اور اس وقت دنیا میں میں اکیلا ہوں۔ صرف میں ہوں اور دل کی دھڑکن ہے۔ اور پھر ایک بار بجلی چمکی تو اس نے سوچا میری زندگی بھی اس سڑک ...

    مزید پڑھیے

    زعفران کے پھول

    آؤ، مسافر، یہاں! اس چنار کے سایے میں بیٹھ جاؤ۔ میں ابھی پانی پلاتی ہوں۔۔۔ وہ نیلی نیلی لمبی سی موٹر ہے نا تمہاری۔۔۔؟ پنکچر ہوگیا ہوگیاہے۔۔۔؟ کوئی بات نہیں۔ اندھیرا ہونے سے پہلے سری نگر پہنچ جاؤگے۔۔۔اب بیس کوس کی تو بات ہی ہے۔۔۔ نہیں بیٹا مجھے پانی کی قیمت نہیں چاہیے۔ اور پھر ...

    مزید پڑھیے

    شکر اللہ کا

    نہیں صاحب! کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ رشتہ داروں، دوستوں، دشمنوں، تعلقات والوں، افسروں، مالکوں، کسی سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ نہ سرکار سے کوئی گلہ ہے۔ نہ اللہ میاں سے کوئی شکوہ ہے۔ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔ قسمت کے لکھے کو کون مٹا سکتا ہے۔ سو میں اپنی قسمت پر شاکر ہوں اور صبح ...

    مزید پڑھیے

    دیا جلے ساری رات

    جہاں تک نظر جاتی تھی ساحل کے کنارے ناریل کے پیڑوں کے جھنڈ پھیلے ہوئے تھے، سورج دور سمندر میں ڈوب رہا تھا اور آکاش پر رنگا رنگ کے بادل تیر رہے تھے، بادل جن میں آگ کے شعلوں جیسی چمک تھی اور موت کی سیاہی، سونے کی پیلاہٹ اور خون کی سرخی۔ ٹراونکور کا ساحل اپنے قدرتی حسن کے لئے ساری ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3