Khwaja Ahmad Abbas

خواجہ احمد عباس

پدم شری ، فکشن نویس ،صحافی ،ہدایت کار،مکالمہ نگار،اپٹا کے بانی رکن،شری 420اور میرا نام جوکر جیسی فلموں کے لیے مشہور

خواجہ احمد عباس کی رباعی

    تین مائیں ایک بچہ

    بچہ ایک تھا ۔۔۔ چار پانچ برس کا ہوگا۔ خوبصورت تھا۔ بڑی بڑی آنکھیں۔ مگر ان آنکھوں میں دنیا بھر کا غم بھرا ہوا تھا۔ جیسے ایک بڑے گمبھیر فلاسفر کو پاکٹ سائز کا بنادیا گیا ہو۔ جسم بھی لاغر تھا۔ جو تعجب کی بات نہیں تھی کیونکہ وہ بچپن ہی سے ایک بھکارن کے یہاں پلا تھا جو اسے نہ دودھ ہی ...

    مزید پڑھیے

    ایک لڑکی

    (اس کہانی میں کوئی کیریکٹر قطعی فرضی نہیں ہے۔) (1) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں ۱۹۳۷ء یادگار رہے گا۔ کیونکہ اس سال ہندوستانی مسلمانوں کے واحد دارالعلوم میں سرکاری طو رپر مخلوط تعلیم کی ابتدا ہوئی۔ یہ قصہ بھی عجیب ہے کہ کس طرح یونیورسٹی کے ارباب حل و عقد ا س سنسنی خیز ...

    مزید پڑھیے

    دل ہی تو ہے

    آپریشن تھیٹر کی سفید دیواروں میں تین افراد قید تھے۔ ایک آدمی تھا۔ ایک جج تھا۔ ایک ڈاکٹر تھا۔ ایک آدمی تھا بے سکت، بے ہوش، تقریباً بے جان آدمی آپریشن ٹیبل پر پڑا تھا۔ اس کے دل میں ایک سوراخ تھا۔ اس کے سوراخ میں پستول کی ایک گولی تھی۔ تھوڑی دیر ہی میں اس کے دل کی حرکت ہمیشہ کے ...

    مزید پڑھیے

    دیوالی کے تین دیے

    پہلا دیادیوالی کا یہ دیا کوئی معمولی دیا نہیں تھا۔ دیے کی شکل کا بہت بڑا بجلی کا لیمپ تھا۔ جو سیٹھ لکشمی داس کے محل نما گھر کے سامنے کے برآمدےمیں لگا ہواتھا۔ بیچ میں یہ دیوں کاسمراٹ دیا تھااور جیسے سورج کے اردگرد اَن گنت ستارے ہیں، اسی طرح اس ایک دیے کے چاروں طرف بلکہ اوپر نیچے ...

    مزید پڑھیے

    تین بھنگی

    مدھیہ پردیش کی سرکار نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی اونچی ذات والا کسی میونسپلٹی میں بھنگی کا کام کرنا منظور کرے گا اسے تنخواہ کے علاوہ نوے روپے ماہوار اسپیشل الاؤنس بھی دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ چھوت چھات دور کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے۔ (بھوپال کی خبر) ابھی سورج نہیں نکلا تھا کہ ...

    مزید پڑھیے

    بنارس کا ٹھگ

    (۱) ریل کے اسٹیشن پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی پولیس کے تھانے کے باہر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی ہسپتال کے دروازے پر بورڈ لگا تھا۔۔۔ وارانسی شراب کی دکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی افیون، گانجہ اور چرس کی دوکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی کتابوں کی دوکان، جہاں کوک شاستر کھلے عام بک رہی تھی، ...

    مزید پڑھیے

    تین عورتیں

    تین عورتیں ایک ریلوے لائن کے کنارے چلی جارہی تھیں۔ کس مقام پر؟ کس ریلوے لائن کے کنارے؟ ان کا مذہب کیا تھا؟ ان کی ذات کیا تھی؟ یہ سب تفصیل غیر ضروری ہے۔ تین عورتیں! ایک نوجوان سندری تھی۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ اس کے سینہ میں ابھار، اس کی چال میں والہانہ پن۔ ایک ماں تھی۔ اس کی ...

    مزید پڑھیے

    سلمہ اور سمندر

    ’’سلمہ!‘‘ ’’ہوں۔۔۔‘‘ ’’خوش ہو۔۔۔؟‘‘ ’’ہوں۔‘‘ ’’کتنی خوش ہو؟‘‘ ’’اتنی خوش ہوں۔۔۔ اتنی خوش ہوں۔۔۔ کہ بتا نہیں سکتی۔‘‘ اور بڑی بڑی کالی آنکھیں جو کاجل کی غیر ضروری لکیروں کے بغیر بھی بہت خوبصورت تھیں، آہستہ آہستہ پلکوں کے پردے میں چھپتی گئیں، جیسے غلافی پپوٹے ...

    مزید پڑھیے

    ایک لڑکی سات دیوانے

    لڑکی جوان ہوگئی تھی۔ لوگ کہتے تھے لڑکی خوبصورت ہے، چنچل ہے، طرح دار ہے، دنیا اس کی دیوانی ہے، ہر کوئی اس کی خاطر جان دینے کو تیار ہے۔ ساتھ میں لڑکی گنی بھی تھی۔ پڑھی لکھی تھی۔ دنیا بھر کی زبانیں جانتی تھی۔ ملٹن اور شیلی، ٹیگور اور قاضی نذرالسلام، سبرامنیم بھارتی اور نرالا، ...

    مزید پڑھیے

    بارہ گھنٹے

    دسمبر کا مہینہ! اسٹیشن ماسٹر کا گھنٹہ۔۔۔ پونے آٹھ بجا رہا تھا۔ گاڑی کے آنے میں اب بھی پندرہ منٹ باقی ہیں۔ بینا نے سوچا اور پلیٹ فارم کے چکر لگانے لگی۔ چھوٹا سا اسٹیشن۔ نہ کتابوں اور اخباروں کی دوکان۔ نہ کوئی ہوٹل۔ چائے کی ایک پیالی بھی ملنی ممکن نہیں۔ بس دو کمروں کی چھوٹی سی ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3