انقلاب
وہ کاروان گل تازہ جس کے مژدے سے دماغ عشق معطر ہے اور فضا معمور دلوں سے کتنا قریں ہے نظر سے کتنی دور
اردو کے اہم ترین نقادوں میں نمایاں
One of the most prominent Urdu critics.
وہ کاروان گل تازہ جس کے مژدے سے دماغ عشق معطر ہے اور فضا معمور دلوں سے کتنا قریں ہے نظر سے کتنی دور
کیسی توانا کیسی چنچل کتنی شوخ اور کیا بیباک کیسی امنگیں کیسی ترنگیں کتنی صاف اور کیسی پاک ہوش کی باتیں شوق کی گھاتیں جوش جوانی سینہ چاک خندہ ایسا جیسے رقص باتیں ایسی جیسے ساز کیسی توجہ کیسی محبت جس میں شامل کم کم ناز
دور سے چل کے آیا تھا میں ننگے پاؤں ننگے سر سر میں گرد زباں میں کاٹنے پاؤں میں چھالے ہوش تھے گم اتنا پیاسا تھا میں اس دن جتنا چاہ کا مارا ہو چاہ کا مارا وہ بھی ایسا جس نے چاہ نہ دیکھی ہو اتنے میں کیا دیکھا میں نے ایک کنواں ہے ستھرا سا جس کی من ہے پکی اونچی جس پر چھاؤں ہے پیڑوں کی چڑھ ...
تیری وادی کے صنوبر میرے صحرا کے ببول ان پہ اک لرزہ سا طاری ان کے مرجھائے سے پھول تیرا جی ان سے خفا اور میرا دل ان پر ملول کیا یہ ممکن ہے کہ ان کا فاصلہ ہو جائے کم خاک کے سینے پہ آخر کب تلک یہ بار غم