Khurshidul islam

خورشید الاسلام

اردو کے اہم ترین نقادوں میں نمایاں

One of the most prominent Urdu critics.

خورشید الاسلام کی غزل

    جتنے نغمے تھے وجہ خلش بن گئے جتنے نالے تھے صرف ہوا ہو گئے

    جتنے نغمے تھے وجہ خلش بن گئے جتنے نالے تھے صرف ہوا ہو گئے ہم وہی ہیں جو کل تھے مگر کیا ہوا ہم وہیں ہیں مگر کیا سے کیا ہو گئے جن کے دامن تہی اور خالی تھے دل جن کی جرأت تھی کم اور جاں مضمحل آستانوں پہ سجدے وہ کرتے رہے رفتہ رفتہ ہمارے خدا ہو گئے اس زمانے کے جو میر و سلطان تھے نوع آدم ...

    مزید پڑھیے

    اس سے پہلے کہ غم کون و مکاں کو سمجھو

    اس سے پہلے کہ غم کون و مکاں کو سمجھو ہو سکے گر تو مرے غم کی زباں کو سمجھو لفظ و معنی سے الگ ہے مرے احساس کا رنگ ہو سکے تم سے تو انداز بیاں کو سمجھو حسن ہے وہم محبت بھی گماں ہے لیکن دل یہ کہتا ہے کہ ہر وہم و گماں کو سمجھو تم سمجھتے ہی نہیں رنگ شکستہ کی زباں کون کہتا ہے کہ تم میری ...

    مزید پڑھیے

    یہ روز و شب ملیں گے کہاں دیکھتے چلیں

    یہ روز و شب ملیں گے کہاں دیکھتے چلیں آئے ہیں جب یہاں تو جہاں دیکھتے چلیں زمزم پئیں شراب پئیں زہر غم پئیں ہر ہر نفس کا رقص جواں دیکھتے چلیں ہو جائیں رفتہ رفتہ حسینوں کی خاک پا بے نام ہو کے نام و نشاں دیکھتے چلیں لہجے میں رنگ رخ میں نظر میں خرام میں اک جان جاں کا لطف نہاں دیکھتے ...

    مزید پڑھیے

    زمیں سے شکر و شکایت ہے آسماں سے نہیں

    زمیں سے شکر و شکایت ہے آسماں سے نہیں کہ ہم یہیں سے ہیں جو کچھ بھی ہیں وہاں سے نہیں بس ایک سایہ سا پھرتا ہے دل میں آوارہ ہمارے غم کا کوئی سلسلہ فغاں سے نہیں سوال شعلۂ نوک زباں ہے کیا کہیے کہاں سے آئے ہیں ہم لوگ اور کہاں سے نہیں روش میں چرخ تپش میں زمیں دہش میں سحاب یہ مشت خاک کسی ...

    مزید پڑھیے

    دل ہوا ویراں متاع چشم نم جاتی رہی

    دل ہوا ویراں متاع چشم نم جاتی رہی رفتہ رفتہ شورش طبع الم جاتی رہی تجھ پہ کیا گزری کہ پاس عاشقاں کرنے لگا یعنی ہم پر وہ تری مشق ستم جاتی رہی ہم کو دنیا سے شکایت ہے کچھ اس انداز کی تھی کبھی دنیا کو جیسے قدر غم جاتی رہی مے کدہ ہے رند ہیں ساقی ہے دور جام ہے بزم جم باقی ہے اب تک شان جم ...

    مزید پڑھیے

    وہ اور بزم ہے جس میں چراغ جلتے ہیں

    وہ اور بزم ہے جس میں چراغ جلتے ہیں یہاں تو اپنے ہی دل اور دماغ جلتے ہیں تم اپنی بزم‌‌ فراغت سے دور دیکھو تو خود اپنی آگ میں یاں کتنے باغ جلتے ہیں نکل کے دیکھو حرم سے بہار دنیا کی کہ بت کدہ میں ہزاروں چراغ جلتے ہیں یہ فیض گرمیٔ دل ہے کہ جوش بادۂ تند ہمارے ہاتھ میں آ کر ایاغ جلتے ...

    مزید پڑھیے

    یہ غم نہیں کہ خوشی میں بھی کچھ مزا نہ رہا

    یہ غم نہیں کہ خوشی میں بھی کچھ مزا نہ رہا ہمیں یہ غم ہے کہ اب غم بھی جاں فزا نہ رہا وہ خواب تھا کہ جئیں دل کی آرزو کے لیے یہ واقعہ ہے کہ مرنے کا حوصلہ نہ رہا نہ کوئی یار نہ کوئی دیار کیا کیجے سوائے سانس کے اب کوئی سلسلہ نہ رہا زبان کانٹوں کی پیاسی رہے رہے نہ رہے ہمارے پاؤں میں جب ...

    مزید پڑھیے

    کبھی گلوں کبھی خاروں کے درمیاں گزری

    کبھی گلوں کبھی خاروں کے درمیاں گزری صبا چمن سے بظاہر تو شادماں گزری اسی کا نام ازل ہے اسی کا نام ابد وہ ایک رات جو پھولوں کے درمیاں گزری کہیں لپک اٹھے شعلے کہیں مہک اٹھے گل شب فراق نہ پوچھو کہاں کہاں گزری بہ شکل قامت آدم بہ طرز رقص پری ہمارے سر پہ قیامت بھی کیا جواں گزری کبھی ...

    مزید پڑھیے

    یہ آرزو ہے حضر میں ہوں یا سفر میں رہیں

    یہ آرزو ہے حضر میں ہوں یا سفر میں رہیں ترے خیال میں گزریں تری نظر میں رہیں جو یاد یار ستاتی ہے اب نہ فکر وصال تو چل کے دور کہیں عرصۂ خطر میں رہیں عجیب لطف سے گزریں یہ دن جو یوں گزریں کہ تیرے دل میں رہیں اور اپنے گھر میں رہیں یہ سادگی ہے کہ دل چاہتا ہے یوں بھی ہو کبھی زمیں پہ رہیں ...

    مزید پڑھیے

    کشتیٔ مے کو تصور میں رواں رکھتے ہیں

    کشتیٔ مے کو تصور میں رواں رکھتے ہیں جیب خالی ہے مگر دل تو جواں رکھتے ہیں ہم کہ محروم ہیں دیدار خداوندی سے چشم ظاہر تو بہ ہر سو نگراں رکھتے ہیں خانقاہوں سے تعلق ہے نہ درباروں سے نسبت سلسلۂ زلف بتاں رکھتے ہیں جھک ہی جاتا ہے فلک آنکھ جہاں پڑتی ہے چوم لیتی ہے زمیں پاؤں جہاں رکھتے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3