Khurshidul islam

خورشید الاسلام

اردو کے اہم ترین نقادوں میں نمایاں

One of the most prominent Urdu critics.

خورشید الاسلام کے تمام مواد

28 غزل (Ghazal)

    جتنے نغمے تھے وجہ خلش بن گئے جتنے نالے تھے صرف ہوا ہو گئے

    جتنے نغمے تھے وجہ خلش بن گئے جتنے نالے تھے صرف ہوا ہو گئے ہم وہی ہیں جو کل تھے مگر کیا ہوا ہم وہیں ہیں مگر کیا سے کیا ہو گئے جن کے دامن تہی اور خالی تھے دل جن کی جرأت تھی کم اور جاں مضمحل آستانوں پہ سجدے وہ کرتے رہے رفتہ رفتہ ہمارے خدا ہو گئے اس زمانے کے جو میر و سلطان تھے نوع آدم ...

    مزید پڑھیے

    اس سے پہلے کہ غم کون و مکاں کو سمجھو

    اس سے پہلے کہ غم کون و مکاں کو سمجھو ہو سکے گر تو مرے غم کی زباں کو سمجھو لفظ و معنی سے الگ ہے مرے احساس کا رنگ ہو سکے تم سے تو انداز بیاں کو سمجھو حسن ہے وہم محبت بھی گماں ہے لیکن دل یہ کہتا ہے کہ ہر وہم و گماں کو سمجھو تم سمجھتے ہی نہیں رنگ شکستہ کی زباں کون کہتا ہے کہ تم میری ...

    مزید پڑھیے

    یہ روز و شب ملیں گے کہاں دیکھتے چلیں

    یہ روز و شب ملیں گے کہاں دیکھتے چلیں آئے ہیں جب یہاں تو جہاں دیکھتے چلیں زمزم پئیں شراب پئیں زہر غم پئیں ہر ہر نفس کا رقص جواں دیکھتے چلیں ہو جائیں رفتہ رفتہ حسینوں کی خاک پا بے نام ہو کے نام و نشاں دیکھتے چلیں لہجے میں رنگ رخ میں نظر میں خرام میں اک جان جاں کا لطف نہاں دیکھتے ...

    مزید پڑھیے

    زمیں سے شکر و شکایت ہے آسماں سے نہیں

    زمیں سے شکر و شکایت ہے آسماں سے نہیں کہ ہم یہیں سے ہیں جو کچھ بھی ہیں وہاں سے نہیں بس ایک سایہ سا پھرتا ہے دل میں آوارہ ہمارے غم کا کوئی سلسلہ فغاں سے نہیں سوال شعلۂ نوک زباں ہے کیا کہیے کہاں سے آئے ہیں ہم لوگ اور کہاں سے نہیں روش میں چرخ تپش میں زمیں دہش میں سحاب یہ مشت خاک کسی ...

    مزید پڑھیے

    دل ہوا ویراں متاع چشم نم جاتی رہی

    دل ہوا ویراں متاع چشم نم جاتی رہی رفتہ رفتہ شورش طبع الم جاتی رہی تجھ پہ کیا گزری کہ پاس عاشقاں کرنے لگا یعنی ہم پر وہ تری مشق ستم جاتی رہی ہم کو دنیا سے شکایت ہے کچھ اس انداز کی تھی کبھی دنیا کو جیسے قدر غم جاتی رہی مے کدہ ہے رند ہیں ساقی ہے دور جام ہے بزم جم باقی ہے اب تک شان جم ...

    مزید پڑھیے

تمام

4 نظم (Nazm)

    انقلاب

    وہ کاروان گل تازہ جس کے مژدے سے دماغ عشق معطر ہے اور فضا معمور دلوں سے کتنا قریں ہے نظر سے کتنی دور

    مزید پڑھیے

    نئی مریم

    کیسی توانا کیسی چنچل کتنی شوخ اور کیا بیباک کیسی امنگیں کیسی ترنگیں کتنی صاف اور کیسی پاک ہوش کی باتیں شوق کی گھاتیں جوش جوانی سینہ چاک خندہ ایسا جیسے رقص باتیں ایسی جیسے ساز کیسی توجہ کیسی محبت جس میں شامل کم کم ناز

    مزید پڑھیے

    پیاس

    دور سے چل کے آیا تھا میں ننگے پاؤں ننگے سر سر میں گرد زباں میں کاٹنے پاؤں میں چھالے ہوش تھے گم اتنا پیاسا تھا میں اس دن جتنا چاہ کا مارا ہو چاہ کا مارا وہ بھی ایسا جس نے چاہ نہ دیکھی ہو اتنے میں کیا دیکھا میں نے ایک کنواں ہے ستھرا سا جس کی من ہے پکی اونچی جس پر چھاؤں ہے پیڑوں کی چڑھ ...

    مزید پڑھیے

    انتظار کی رات

    تیری وادی کے صنوبر میرے صحرا کے ببول ان پہ اک لرزہ سا طاری ان کے مرجھائے سے پھول تیرا جی ان سے خفا اور میرا دل ان پر ملول کیا یہ ممکن ہے کہ ان کا فاصلہ ہو جائے کم خاک کے سینے پہ آخر کب تلک یہ بار غم

    مزید پڑھیے