Khurshidul islam

خورشید الاسلام

اردو کے اہم ترین نقادوں میں نمایاں

One of the most prominent Urdu critics.

خورشید الاسلام کی غزل

    باغ جہاں کے سادہ جمالوں سے عشق ہے

    باغ جہاں کے سادہ جمالوں سے عشق ہے سبزے سے گل سے سرو سے لالوں سے عشق ہے ہاں خار و خس سے دل کو علاقہ ہے پاس کا ہاں اس چمن کے تازہ نہالوں سے عشق ہے سادہ سی گفتگو کے خم و پیچ ہیں عزیز خاموشیوں کے گرم مقالوں سے عشق ہے جو با ہنر ہیں ان کے قدم چومتے ہیں ہم جو بے ہنر ہیں ان کے کمالوں سے عشق ...

    مزید پڑھیے

    میری نظر میں دوستو جس شہر کے گلزار ہیں

    میری نظر میں دوستو جس شہر کے گلزار ہیں سبزہ بڑا سرکش ہے واں اور سرد خوش رفتار ہیں شاخیں ہیں واں آراستہ اور گل ہیں واں نو خاستہ پیالے ہیں جن کے مدھ بھرے اور پیرہن زر کار ہیں ہر ہر قدم پر خوب رو آرام جاں اور کام جو آنکھوں میں غنچوں کی چٹک چہرے غضب گلنار ہیں جتنے یہ کم آمیز ہیں ...

    مزید پڑھیے

    ہر غم غم تازہ ہے یہ شاداب ہے سینہ

    ہر غم غم تازہ ہے یہ شاداب ہے سینہ ایسا بھی تو اس دور میں نایاب ہے سینہ ہنگام خمیدن بھی یہ سر خم نہیں ہوتا یوں کہنے کو گنجینۂ آداب ہے سینہ جیسے کہ نہ آئی ہے نہ آئے گی کوئی اور ہر صبح کو اس طور سے بیتاب ہے سینہ باطن پہ نظر کیجے تو اک بحر ہے ذخار ظاہر پہ نظر کیجے تو پایاب ہے ...

    مزید پڑھیے

    داغ دھل گئے اب تو درد میں کمی سی ہے

    داغ دھل گئے اب تو درد میں کمی سی ہے زندگی نہ جانے کیوں پھر بھی اجنبی سی ہے کل جس آبگینے سے موج مے چھلکتی تھی آج اس آبگینے کی آنکھ میں نمی سی ہے کیف چشم ساقی میں کچھ کمی نہیں لیکن جشن مے گساراں میں آج بے دلی سی ہے گردش جہاں میں بھی کچھ اثر ہے لغزش کا اور نبض ہستی بھی کچھ رکی رکی سی ...

    مزید پڑھیے

    ہم پہ اگرچہ بھاری گزری پھر بھی تھی کیا پیاری رات

    ہم پہ اگرچہ بھاری گزری پھر بھی تھی کیا پیاری رات آپ بھی تڑپی ساتھ ہمارے آپ بھی جاگی ساری رات جیسے جیسے رات ڈھلی ہے درد کی لذت اور بڑھی یادوں کی خوشبو میں بسا کر ہم نے خوب سنواری رات تیرے خیالوں کے پردے سے جب غم دنیا جھانک اٹھا رک گئی جیسے وقت کی گردش ہو گئی دل پر بھاری رات آپ نہ ...

    مزید پڑھیے

    کس شور جہنم میں فضا ڈوب چلی ہے

    کس شور جہنم میں فضا ڈوب چلی ہے دل دھڑکے ہے سینے میں نوا ڈوب چلی ہے وہ خون کی موجیں ہیں ہر اک سو کہ کمر تک فرخندہ جمالوں کی قبا ڈوب چلی ہے وہ حبس کا عالم ہے کہ ہر سانس ہے گھائل کیا ذکر ہوا نبض‌ ہوا ڈوب چلی ہے کیا جانئے کس گوشے سے امڈی ہے سیاہی کیا کہئے کہ کرنوں کی ردا ڈوب چلی ...

    مزید پڑھیے

    ترا غم جب سے کم ہونے لگا ہے

    ترا غم جب سے کم ہونے لگا ہے ہمیں بھی اپنا غم ہونے لگا ہے ہم اپنے حال سے ڈرنے لگے ہیں کہ غم خواروں کو غم ہونے لگا ہے ہماری راستی کے سامنے اب ہمارا قد بھی خم ہونے لگا ہے عطا کرتے ہیں جو اہل تواضع وہ بادہ ہم کو سم ہونے لگا ہے وجود آدمی سے پیشتر ہی سر آدم قلم ہونے لگا ہے کوئی چہرہ ...

    مزید پڑھیے

    یار اک لذت دیدار سے آگے نہ گئے

    یار اک لذت دیدار سے آگے نہ گئے یعنی زلف و لب و رخسار سے آگے نہ گئے جوش میں صورت نادار جو آتے ہیں نظر ہوش میں شکوۂ زر دار سے آگے نہ گئے تھا وہیں کوۓ مغاں چار قدم پر افسوس کیا کیا ہم نے کہ بازار سے آگے نہ گئے غم جو آزار تھا اک دولت بیدار ہے اب ہم تو اس دولت بیدار سے آگے نہ گئے شب نے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3