باغ جہاں کے سادہ جمالوں سے عشق ہے
باغ جہاں کے سادہ جمالوں سے عشق ہے سبزے سے گل سے سرو سے لالوں سے عشق ہے ہاں خار و خس سے دل کو علاقہ ہے پاس کا ہاں اس چمن کے تازہ نہالوں سے عشق ہے سادہ سی گفتگو کے خم و پیچ ہیں عزیز خاموشیوں کے گرم مقالوں سے عشق ہے جو با ہنر ہیں ان کے قدم چومتے ہیں ہم جو بے ہنر ہیں ان کے کمالوں سے عشق ...