Khurshidul islam

خورشید الاسلام

اردو کے اہم ترین نقادوں میں نمایاں

One of the most prominent Urdu critics.

خورشید الاسلام کی غزل

    دل میں جب بھی کبھی دنیا سے ملال آتا ہے

    دل میں جب بھی کبھی دنیا سے ملال آتا ہے کتنے ہی زہرہ جبینوں کا خیال آتا ہے شمع جلتی ہے تو پروانوں کا آتا ہے خیال اور بجھتی ہے تو بجھنے پہ ملال آتا ہے نوک ہر خار نظر آتی ہے کیوں تشنۂ خوں دشت پر خار میں کیا کوئی غزال آتا ہے عین ہجراں میں بھی ملتی ہے کبھی لذت وصل عین لذت میں بھی لذت ...

    مزید پڑھیے

    زمیں پہ کھلتی رہی ہیں کلیاں فلک پہ تارے اگا کیے ہیں

    زمیں پہ کھلتی رہی ہیں کلیاں فلک پہ تارے اگا کیے ہیں یہی کرشمے ہوا کریں گے یہی کرشمے ہوا کیے ہیں جنوں نہیں ہے کہ چاک دامن کو آبروئے بہار سمجھیں خزاں کی یلغار میں بھی ہمدم ہم اپنا دامن سیا کیے ہیں کسے خبر تھی کہ مے پرستوں کو ان کی خاطر عزیز ہوگا وہ زہر غم جو نہ تھا گوارا وہ زہر غم ...

    مزید پڑھیے

    ہونا ہے غم کو خاک بسر جاگتے رہو

    ہونا ہے غم کو خاک بسر جاگتے رہو ملتی ہے زندگی کی خبر جاگتے رہو گردش وداع ہجر ہے اور مژدۂ وصال گردش میں ہیں یہ شام و سحر جاگتے رہو دیکھو گے صحن باغ میں آب رواں کا جوش لائیں گے نخل برگ و ثمر جاگتے رہو سینے کو چاک چاک کرو دل کو لخت لخت آئیں گے گھر میں شمس و قمر جاگتے رہو شیشہ اٹھاؤ ...

    مزید پڑھیے

    رات بھی ہے کچھ سونی سونی دن بھی کچھ ویران سا ہے

    رات بھی ہے کچھ سونی سونی دن بھی کچھ ویران سا ہے پھول بھی ہیں کچھ سہمے سہمے باغ بھی کچھ حیران سا ہے قریہ قریہ اوج پہ سر ہیں نوک سناں سر سبز سی ہے خنجر جھمکیں لعل سے گویا گردن پر احسان سا ہے دائیں بائیں آگے پیچھے پتھر کی دیواریں ہیں کس سے کہیے اور کیا کہیے جو بھی کہے نادان سا ہے دن ...

    مزید پڑھیے

    ہوائے گرمیٔ سود و زیاں سے روٹھ گئے

    ہوائے گرمیٔ سود و زیاں سے روٹھ گئے ذرا سی بات پہ سارے جہاں روٹھ گئے وہ عشق گل تھا کہ گلچیں کے ہم عدو ٹھہرے یہ رشک گل ہے کہ ہم باغباں سے روٹھ گئے جو بے دماغ تری رہ گزر میں آ بیٹھے مکاں تو چیز ہے کیا لا مکاں سے روٹھ گئے جو تیز گام تھا اس کو سکھائی رسم سلوک جو سست گام تھا اس کارواں سے ...

    مزید پڑھیے

    یہ مانا نت نئے فتنے عجب رنجن و محن جاگے

    یہ مانا نت نئے فتنے عجب رنجن و محن جاگے مگر یہ بھی تو دیکھو چار سو کیا کیا چمن جاگے بجھے بیٹھے رہیں کب تک بس اب شیشے کو چھلکاؤ لہو چہکے نفس مہکے خرد ناچے بدن جاگے کوئی ایسی بھی ساعت ہو کوئی ایسی بھی شب آئے کہ میری حسرتیں سو جائیں تیرا بانکپن جاگے کتاب جسم نرمی سے ورق اندر ورق ...

    مزید پڑھیے

    بس ہو بھی چکیں حسرت پرواز کی باتیں

    بس ہو بھی چکیں حسرت پرواز کی باتیں پھر چھیڑ کسی انجمن ناز کی باتیں عریانی احساس ہے کچھ حسن نہ کچھ عشق یہ راز کی باتیں ہیں نہ وہ راز کی باتیں سادہ سا مزے دار سا اک شخص ہو جیسے سنتے ہیں وہ کس لطف سے غماز کی باتیں کچھ ذوق بھی عبرت کا طبیعت میں ہے باقی کچھ ذوق کی حامل بھی ہیں طناز کی ...

    مزید پڑھیے

    دبے جو آگ تو دل سے دھواں سا اٹھتا ہے

    دبے جو آگ تو دل سے دھواں سا اٹھتا ہے مکاں کے پردے سے اک لا مکاں سا اٹھتا ہے نظر جو ٹھہرے کوئی دم ترے سراپے میں تو انگ انگ سے اک کارواں سا اٹھتا ہے لہو کا سیل ہو یا زمزمہ ہو جو کچھ ہو ہمارے دل سے ہر اک بے کراں سا اٹھتا ہے یہ تیری بزم کی عظمت یہ اس کی ویرانی کہ یاں سے جو بھی اٹھے اک ...

    مزید پڑھیے

    روٹھے ہوؤں کو اپنے منانے چلے تھے ہم

    روٹھے ہوؤں کو اپنے منانے چلے تھے ہم بگڑی ہوئی تھی بات بنانے چلے تھے ہم کیا کہئے آسمان تھا وہ یا زمین تھی جس پر گلوں کا نقش بٹھانے چلے تھے ہم دیکھا انہیں قریب سے ہم نے تو رو دیے جن بستیوں کو آگ لگانے چلے تھے ہم دنیا کے ناز دیکھ کے حیران رہ گئے گویا اسی کے ناز اٹھانے چلے تھے ...

    مزید پڑھیے

    ربط کیسا تھا دل و دیدہ و جاں میں پہلے

    ربط کیسا تھا دل و دیدہ و جاں میں پہلے تھا کوئی اور جہاں اپنے جہاں میں پہلے دل دھڑکتا ہے تو رونے کی صدا آتی ہے ایک ہنگامہ سا رہتا تھا مکاں میں پہلے خاک سی اڑتی ہے سینے میں یقیں کے ہر دم قافلے آ کے ٹھہرتے تھے گماں میں پہلے یک بیک دل سے چھلک پڑتی تھی اک موج طرب لذت جاں تھی عجب شورش ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3