جتنے نغمے تھے وجہ خلش بن گئے جتنے نالے تھے صرف ہوا ہو گئے
جتنے نغمے تھے وجہ خلش بن گئے جتنے نالے تھے صرف ہوا ہو گئے ہم وہی ہیں جو کل تھے مگر کیا ہوا ہم وہیں ہیں مگر کیا سے کیا ہو گئے جن کے دامن تہی اور خالی تھے دل جن کی جرأت تھی کم اور جاں مضمحل آستانوں پہ سجدے وہ کرتے رہے رفتہ رفتہ ہمارے خدا ہو گئے اس زمانے کے جو میر و سلطان تھے نوع آدم ...