حیدرآباد
جگمگاتی ہوئی یادوں کے حسین آنچل میں آج پھر قافلۂ صبح و مسا ٹھہرا ہے شہر کے دل کے دھڑکنے کی صدا تیز ہوئی پیار کی چھاؤں میں اک گیت نے لی انگڑائی دور تاریخ کی بیتاب گزر گاہوں سے کتنے پھولوں کی مہک لے کے محبت آئی ہر طرف اب بھی ہم آغوش ہے تعبیروں سے ایک دل دار کے خوابوں کی جواں ...