Khurshid Ahmad Jami

خورشید احمد جامی

نئی غزل کے اہم شاعروں میں شامل

A prominent poet of modern Urdu ghazal

خورشید احمد جامی کی غزل

    جلاؤ غم کے دئے پیار کی نگاہوں میں

    جلاؤ غم کے دئے پیار کی نگاہوں میں کہ تیرگی ہے بہت زندگی کی راہوں میں سنا کہ اب بھی سر شام وہ جلاتے ہیں اداسیوں کے دیے منتظر نگاہوں میں غم حیات نے دامن پکڑ لیا ورنہ بڑے حسین بلاوے تھے ان نگاہوں میں کہیں قریب کہیں دور ہو گئے جامیؔ وہ زندگی کی طرح زندگی کی راہوں میں

    مزید پڑھیے

    سحر کا حسن گلوں کا شباب دیتا ہوں

    سحر کا حسن گلوں کا شباب دیتا ہوں نئی غزل کو نئی آب و تاب دیتا ہوں مرے لیے ہیں اندھیروں کی پھانسیاں لیکن تری سحر کے لیے آفتاب دیتا ہوں وفا کی پیار کی غم کی کہانیاں لکھ کر سحر کے ہاتھ میں دل کی کتاب دیتا ہوں گزر رہا ہے جو ذہن حیات سے جامیؔ شب فراق کو وہ ماہتاب دیتا ہوں

    مزید پڑھیے

    ہر ایک درد کو حرف غزل بنا دوں گا

    ہر ایک درد کو حرف غزل بنا دوں گا چلا تو ہوں کہ تری رہ گزر دکھا دوں گا غم حیات مرے ساتھ ساتھ ہی رہنا پیمبری سے ترا سلسلہ ملا دوں گا اگر وہاں بھی تری آہٹیں نہ سن پاؤں تو آرزو کی حسیں بستیاں جلا دوں گا نہ انتظار نہ آہیں نہ بھیگتی راتیں خبر نہ تھی کہ تجھے اس طرح بھلا دوں گا کچھ اور ...

    مزید پڑھیے

    وفا نے جھوم کے جب تیرے گیت گائے ہیں

    وفا نے جھوم کے جب تیرے گیت گائے ہیں قدم افق پہ اندھیروں کے لڑکھڑائے ہیں ترے قریب پہنچ کر بھی کم نہیں ہوتے غم حیات نے جو فاصلے بڑھائے ہیں بہت طویل سہی راہ جستجو لیکن بہت حسین ترے گیسوؤں کے سائے ہیں تری نگاہ مداوا نہ بن سکی جن کا تری تلاش میں ایسے بھی زخم کھائے ہیں پڑا ہے عکس جو ...

    مزید پڑھیے

    مہک اٹھا یکایک ریگزار درد تنہائی

    مہک اٹھا یکایک ریگزار درد تنہائی کسے اے یاد جاناں تو یہاں تک ڈھونڈنے آئی بڑے دلچسپ وعدے تھے بڑے رنگین دھوکے تھے گلوں کی آرزو میں زندگی شعلے اٹھا لائی بتاؤ تو اندھیروں کی فصیلوں سے پرے آخر کہاں تک قافلہ گزرا کہاں تک روشنی آئی تمہارے بعد جیسے جاگتا ہے شب کا سناٹا در و دیوار کو ...

    مزید پڑھیے

    اے انتظار صبح تمنا یہ کیا ہوا

    اے انتظار صبح تمنا یہ کیا ہوا آتا ہے اب خیال بھی تیرا تھکا ہوا پہچان بھی سکی نہ مری زندگی مجھے اتنی روا روی میں کہیں سامنا ہوا چمکا سکے نہ تیرہ نصیبوں کی رات کو ہم راز ہیں ترے مہ و انجم تو کیا ہوا مجھ سے کہیں ملا غم دوراں تو اس طرح جیسے مری طرح سے ہے وہ بھی تھکا ہوا جامیؔ فضائے ...

    مزید پڑھیے

    بے خواب دریچوں میں کسی رنگ محل کے

    بے خواب دریچوں میں کسی رنگ محل کے فانوس جلائے ہیں امیدوں نے غزل کے یادوں کے درختوں کی حسیں چھاؤں میں جیسے آتا ہے کوئی شخص بہت دور سے چل کے دکھ درد کے جلتے ہوئے آنگن میں کھڑا ہوں اب کس کے لیے خلوت جاناں سے نکل کے سوچوں میں دبے پاؤں چلے آتے ہیں اکثر بچھڑی ہوئی کچھ سانولی شاموں کے ...

    مزید پڑھیے

    کتنے ہی فسانے یاد آئے کتنے ہی سہارے یاد آئے

    کتنے ہی فسانے یاد آئے کتنے ہی سہارے یاد آئے طوفان نے بانہیں پھیلا دیں جس وقت کنارے یاد آئے دیوار سے لگ کر سوچوں کی امید کا سارا دن گزرا جب رات ہوئی تو ہم کو بھی سب خواب ہمارے یاد آئے پیمان وفا کے سینے سے پھر آج لہو ٹپکا جامیؔ جو راہ میں تھک کر بیٹھ گئے احباب وہ سارے یاد آئے

    مزید پڑھیے

    چمکتے خواب ملتے ہیں مہکتے پیار ملتے ہیں

    چمکتے خواب ملتے ہیں مہکتے پیار ملتے ہیں تمہارے شہر میں کتنے حسیں آزار ملتے ہیں چلے آتے ہیں چپکے سے خیالوں کے مہ و انجم مری تاریک راتوں کو بہت غم خوار ملتے ہیں دبے لہجہ میں یہ کہہ کر نسیم جاں فزا گزری چلو ان ریگزاروں سے پرے گلزار ملتے ہیں غزل کو تجربات زندگی کی دھوپ میں ...

    مزید پڑھیے

    ان سے کہیں ملے ہیں تو ہم یوں کبھی ملے

    ان سے کہیں ملے ہیں تو ہم یوں کبھی ملے اک اجنبی سے جیسے کوئی اجنبی ملے دیکھا تو لوح دل پہ ترے نام کے سوا جلتے ہوئے نشان ستم اور بھی ملے کچھ دور آؤ موت کے ہم راہ بھی چلیں ممکن ہے راستے میں کہیں زندگی ملے ہونٹوں کی مے نظر کے تقاضے بدن کی آنچ اب کیا ضرور ہے کہ وہی رات بھی ملے

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3