Khurshid Ahmad Jami

خورشید احمد جامی

نئی غزل کے اہم شاعروں میں شامل

A prominent poet of modern Urdu ghazal

خورشید احمد جامی کے تمام مواد

22 غزل (Ghazal)

    جلاؤ غم کے دئے پیار کی نگاہوں میں

    جلاؤ غم کے دئے پیار کی نگاہوں میں کہ تیرگی ہے بہت زندگی کی راہوں میں سنا کہ اب بھی سر شام وہ جلاتے ہیں اداسیوں کے دیے منتظر نگاہوں میں غم حیات نے دامن پکڑ لیا ورنہ بڑے حسین بلاوے تھے ان نگاہوں میں کہیں قریب کہیں دور ہو گئے جامیؔ وہ زندگی کی طرح زندگی کی راہوں میں

    مزید پڑھیے

    سحر کا حسن گلوں کا شباب دیتا ہوں

    سحر کا حسن گلوں کا شباب دیتا ہوں نئی غزل کو نئی آب و تاب دیتا ہوں مرے لیے ہیں اندھیروں کی پھانسیاں لیکن تری سحر کے لیے آفتاب دیتا ہوں وفا کی پیار کی غم کی کہانیاں لکھ کر سحر کے ہاتھ میں دل کی کتاب دیتا ہوں گزر رہا ہے جو ذہن حیات سے جامیؔ شب فراق کو وہ ماہتاب دیتا ہوں

    مزید پڑھیے

    ہر ایک درد کو حرف غزل بنا دوں گا

    ہر ایک درد کو حرف غزل بنا دوں گا چلا تو ہوں کہ تری رہ گزر دکھا دوں گا غم حیات مرے ساتھ ساتھ ہی رہنا پیمبری سے ترا سلسلہ ملا دوں گا اگر وہاں بھی تری آہٹیں نہ سن پاؤں تو آرزو کی حسیں بستیاں جلا دوں گا نہ انتظار نہ آہیں نہ بھیگتی راتیں خبر نہ تھی کہ تجھے اس طرح بھلا دوں گا کچھ اور ...

    مزید پڑھیے

    وفا نے جھوم کے جب تیرے گیت گائے ہیں

    وفا نے جھوم کے جب تیرے گیت گائے ہیں قدم افق پہ اندھیروں کے لڑکھڑائے ہیں ترے قریب پہنچ کر بھی کم نہیں ہوتے غم حیات نے جو فاصلے بڑھائے ہیں بہت طویل سہی راہ جستجو لیکن بہت حسین ترے گیسوؤں کے سائے ہیں تری نگاہ مداوا نہ بن سکی جن کا تری تلاش میں ایسے بھی زخم کھائے ہیں پڑا ہے عکس جو ...

    مزید پڑھیے

    مہک اٹھا یکایک ریگزار درد تنہائی

    مہک اٹھا یکایک ریگزار درد تنہائی کسے اے یاد جاناں تو یہاں تک ڈھونڈنے آئی بڑے دلچسپ وعدے تھے بڑے رنگین دھوکے تھے گلوں کی آرزو میں زندگی شعلے اٹھا لائی بتاؤ تو اندھیروں کی فصیلوں سے پرے آخر کہاں تک قافلہ گزرا کہاں تک روشنی آئی تمہارے بعد جیسے جاگتا ہے شب کا سناٹا در و دیوار کو ...

    مزید پڑھیے

تمام

2 نظم (Nazm)

    حیدرآباد

    جگمگاتی ہوئی یادوں کے حسین آنچل میں آج پھر قافلۂ صبح و مسا ٹھہرا ہے شہر کے دل کے دھڑکنے کی صدا تیز ہوئی پیار کی چھاؤں میں اک گیت نے لی انگڑائی دور تاریخ کی بیتاب گزر گاہوں سے کتنے پھولوں کی مہک لے کے محبت آئی ہر طرف اب بھی ہم آغوش ہے تعبیروں سے ایک دل دار کے خوابوں کی جواں ...

    مزید پڑھیے

    گولکنڈہ کے سائے میں

    گولکنڈہ حسن‌ تہذیب و تمدن کا دیار عظمت افسانۂ ہستی کی زندہ یادگار سربلندی سے تری ملتا ہے جھک کر آسماں ذرہ ذرہ میں نظر آتا ہے مہر ضو فشاں ان فضاؤں میں پہنچ کر آہ کھو جاتا ہوں میں گم خیالوں کی حسین وادی میں ہو جاتا ہوں میں سامنے رکتے ہیں کتنے کاروان رنگ و بو جیسے یہ خاموشیاں ...

    مزید پڑھیے