Khurshid Ahmad Jami

خورشید احمد جامی

نئی غزل کے اہم شاعروں میں شامل

A prominent poet of modern Urdu ghazal

خورشید احمد جامی کی غزل

    معیار سخن ہوں نہ کوئی عظمت فن ہوں

    معیار سخن ہوں نہ کوئی عظمت فن ہوں بڑھتے ہوئے پتھراؤ میں شیشے کا بدن ہوں اس طرح مجھے دیکھ رہا ہے کوئی جیسے میں دور کے جلتے ہوئے خوابوں کی تھکن ہوں سو بار اندھیروں نے جسے قتل کیا ہے تخلیق کے ماتھے کی وہی ایک کرن ہوں آواز انا الحق کی طرح ساتھ ہی تیرے اک عمر سے اے سلسلۂ دار و رسن ...

    مزید پڑھیے

    اک عمر ساتھ ساتھ مرے زندگی رہی

    اک عمر ساتھ ساتھ مرے زندگی رہی لیکن کسی بخیل کی دولت بنی رہی معیار فن پہ وقت کا جادو نہ چل سکا دنیا قریب ہو کے بہت دور ہی رہی مہکی ہوئی سحر سے مرا واسطہ رہا جلتی ہوئی شبوں سے مری دوستی رہی تنہائیوں کے دشت میں کچھ پھول سے کھلے رقصاں شب فراق کوئی چاندنی رہی

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 3