معیار سخن ہوں نہ کوئی عظمت فن ہوں
معیار سخن ہوں نہ کوئی عظمت فن ہوں بڑھتے ہوئے پتھراؤ میں شیشے کا بدن ہوں اس طرح مجھے دیکھ رہا ہے کوئی جیسے میں دور کے جلتے ہوئے خوابوں کی تھکن ہوں سو بار اندھیروں نے جسے قتل کیا ہے تخلیق کے ماتھے کی وہی ایک کرن ہوں آواز انا الحق کی طرح ساتھ ہی تیرے اک عمر سے اے سلسلۂ دار و رسن ...