کیوں چاند کو سمجھے کوئی پیغام کسی کا
کیوں چاند کو سمجھے کوئی پیغام کسی کا صحرا کی کڑی دھوپ بھی ہے نام کسی کا ٹوٹی ہوئی اک قبر کے کتبے پہ لکھا تھا یہ چین کسی کا ہے یہ آرام کسی کا خوابوں کے دریچے میں ہو جیسے کوئی چہرہ یوں درد نکھرتا ہے سر شام کسی کا غزلوں پہ بھی ہوتا ہے کسی شکل کا دھوکا تاروں کو بھی دیتا ہوں کبھی نام ...