Khurshid Ahmad Jami

خورشید احمد جامی

نئی غزل کے اہم شاعروں میں شامل

A prominent poet of modern Urdu ghazal

خورشید احمد جامی کی غزل

    کیوں چاند کو سمجھے کوئی پیغام کسی کا

    کیوں چاند کو سمجھے کوئی پیغام کسی کا صحرا کی کڑی دھوپ بھی ہے نام کسی کا ٹوٹی ہوئی اک قبر کے کتبے پہ لکھا تھا یہ چین کسی کا ہے یہ آرام کسی کا خوابوں کے دریچے میں ہو جیسے کوئی چہرہ یوں درد نکھرتا ہے سر شام کسی کا غزلوں پہ بھی ہوتا ہے کسی شکل کا دھوکا تاروں کو بھی دیتا ہوں کبھی نام ...

    مزید پڑھیے

    ہو گیا اب تو خیالوں کا سفر بھی دشوار

    ہو گیا اب تو خیالوں کا سفر بھی دشوار دور تک راہ میں ہے خود مری شہرت کا غبار اپنے خوابوں کو لیے گھر سے نہ باہر نکلو چار سو شہر میں ہے ناچتے شعلوں کی قطار بارہا نیند سے یوں چونک اٹھا ہوں جیسے میرے بستر پہ تری یاد ہوئی ہے بیدار میں سمجھتا ہوں کہ اب صرف کتب خانوں میں منہ زمانے سے ...

    مزید پڑھیے

    اب کوئی پیار مہکتا ہے نہ جلتے ہیں بدن

    اب کوئی پیار مہکتا ہے نہ جلتے ہیں بدن آ گئی وقت کے چہرے پہ خیالوں کی تھکن رات کچھ دیر ترے شہر میں رک جاتی ہے اور ہو جاتے ہیں یادوں کے دریچے روشن جب بھی حالات نے زخموں کو چھپانا چاہا چیخ اٹھے ہیں امیدوں کے پھٹے پیراہن زندگی آج بھی کچھ سوچ رہی ہے جیسے ہر اداسی کو سمجھ کر ترے ماتھے ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے درد کو سورج کہا ہے

    تمہارے درد کو سورج کہا ہے نیا اسلوب غزلوں کو دیا ہے سحر کے راستے میں سر اٹھائے اندھیروں کا وہی پربت کھڑا ہے بہت کچھ جو کتابوں میں نہیں تھا وہ چہروں کی لکیروں میں پڑھا ہے کوئی وحشت زدہ زخمی ارادہ تبسم بن کے لہراتا رہا ہے بتاؤ نام بھی ہے کچھ تمہارا مرا سایہ مجھی سے پوچھتا ...

    مزید پڑھیے

    سلام تیری مروت کو مہربانی کو

    سلام تیری مروت کو مہربانی کو ملا اک اور نیا سلسلہ کہانی کو نسیم یاد غزالاں چلی نہ پھول کھلے وہ ریگزار ملے موسم جوانی کو بہت اداس بہت منفعل نظر آئی نگاہ چوم کے رخسار شادمانی کو دیار شعر میں جامیؔ قبول کر نہ سکا مرا مذاق روایت کی حکمرانی کو

    مزید پڑھیے

    جاگتے غم بھی نہیں جھومتے سائے بھی نہیں

    جاگتے غم بھی نہیں جھومتے سائے بھی نہیں ساتھ اپنے بھی نہیں اور پرائے بھی نہیں سینۂ ساز میں وہ گیت سلگ اٹھے ہیں پیار بن کر جو لب ساز پہ آئے بھی نہیں زندگانی تو خریدار ستم ہے لیکن تم نے بازار صلیبوں کے سجائے بھی نہیں کچھ ارادے مرے گیتوں کی تھکن ہیں اب بھی کچھ فسانے تری آنکھوں نے ...

    مزید پڑھیے

    گل بہ داماں نہ کوئی شعلہ بجاں ہے اب کے

    گل بہ داماں نہ کوئی شعلہ بجاں ہے اب کے چار سو وقت کی راہوں میں دھواں ہے اب کے شام ہجراں جسے ہاتھوں میں لیے پھرتی ہے کون جانے کہ وہ تصویر کہاں ہے اب کے زندگی رات کے پھیلے ہوئے سناٹے میں دور ہٹتے ہوئے قدموں کا نشاں ہے اب کے تیری پلکوں پہ کوئی خواب لرزتا ہوگا میرے گیتوں میں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    سنسان راستوں پہ تری یاد نے کہا

    سنسان راستوں پہ تری یاد نے کہا حالات کا فریب بھی کتنا حسین تھا اب کے بھی درد مند بہاروں نے جا بہ جا پھولوں کی تختیوں پہ ترا نام لکھ دیا رات ایک اجنبی کی طرح گھومتی رہی دن ایک فلسفی کی طرح سوچتا رہا ہر تیرگی نے مجھ سے اجالوں کی بات کی ہر زہر اتفاق سے تریاک بن گیا چمکا رہی ہے غم ...

    مزید پڑھیے

    سحر کے ساتھ چلے روشنی کے ساتھ چلے

    سحر کے ساتھ چلے روشنی کے ساتھ چلے تمام عمر کسی اجنبی کے ساتھ چلے ہمیں کو مڑ کے نہ دیکھا ہمیں سے کچھ نہ کہا اس احتیاط سے ہم زندگی کے ساتھ چلے تمہارے شہر میں انجان سا مسافر تھا تمہارے شہر میں جس آدمی کے ساتھ چلے غموں نے پیار سے جس وقت ہاتھ پھیلائے تو سب کو چھوڑ کے ہم کس خوشی کے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی

    کوئی ہلچل ہے نہ آہٹ نہ صدا ہے کوئی دل کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا ہے کوئی ایک اک کر کے ابھرتی ہیں کئی تصویریں سر جھکائے ہوئے کچھ سوچ رہا ہے کوئی غم کی وادی ہے نہ یادوں کا سلگتا جنگل ہائے ایسے میں کہاں چھوڑ گیا ہے کوئی یاد ماضی کی پراسرار حسیں گلیوں میں میرے ہم راہ ابھی گھوم رہا ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3