سلام تیری مروت کو مہربانی کو
سلام تیری مروت کو مہربانی کو
ملا اک اور نیا سلسلہ کہانی کو
نسیم یاد غزالاں چلی نہ پھول کھلے
وہ ریگزار ملے موسم جوانی کو
بہت اداس بہت منفعل نظر آئی
نگاہ چوم کے رخسار شادمانی کو
دیار شعر میں جامیؔ قبول کر نہ سکا
مرا مذاق روایت کی حکمرانی کو