Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کی غزل

    بنا رہے کوئی دم نقش پا سے کون کہے

    بنا رہے کوئی دم نقش پا سے کون کہے ابھی نہ خاک اڑائے ہوا سے کون کہے پئے نشاط نفس دو نفس بچا کے رکھے یہ مدعا دل بے مدعا سے کون کہے گئی تو بو ہی نہیں رنگ بھی گلوں سے گیا پلٹ کے باغ میں آئے صبا سے کون کہے وہ ملتفت ہیں مگر اب ہمیں دماغ نہیں کہے ہوئے کو پھر اب ابتدا سے کون کہے بہت سے ...

    مزید پڑھیے

    تو ہے کہ چیستاں کی عبارت ہے تہ بہ تہ

    تو ہے کہ چیستاں کی عبارت ہے تہ بہ تہ دل ہے کہ سنگ بستۂ حیرت ہے تہ بہ تہ جو آنکھ دیکھنے میں خرابہ دکھائی دے سمجھو کہ اس میں کوئی امانت ہے تہ بہ تہ بحر انا ہوں میری تہوں میں اتر کے دیکھ خوابیدہ مجھ میں وقت کی میت ہے تہ بہ تہ وہ چشم سرمہ سا کہ جسے بے زباں کہیں اس کی خموشیوں میں اشارت ...

    مزید پڑھیے

    کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا

    کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا سوچی ہوئی باتوں کو سوچا تو بہت رویا دل میرا ہر اک شے کو آئینہ سمجھتا ہے ڈھلتے ہوئے سورج کو دیکھا تو بہت رویا جو شخص نہ رویا تھا تپتی ہوئی راہوں میں دیوار کے سائے میں بیٹھا تو بہت رویا آساں تو نہیں اپنی ہستی سے گزر جانا اترا جو سمندر میں ...

    مزید پڑھیے

    رہی ہے پردۂ الفت میں مصلحت کیا کیا

    رہی ہے پردۂ الفت میں مصلحت کیا کیا عداوتوں میں ہوئی ہے مفاہمت کیا کیا مرے عزیز وطن کی فضا نے بھر دی ہے مری سرشت کے اندر منافقت کیا کیا کبھی اصول کی غیرت کبھی زیاں کا سوال دماغ و دل میں رہی ہے مشاورت کیا کیا صدائے دل کو تہ دل میں قید کر کے رکھا رہا ہے طوق گلو شوق عافیت کیا ...

    مزید پڑھیے

    آئیے رو لیں کہیں رونے سے چین آ جائے گا

    آئیے رو لیں کہیں رونے سے چین آ جائے گا ورنہ درد دل بھری محفل میں پکڑا جائے گا چاند کی چاہت ہے لیکن چاند کو کم دیکھیے ورنہ جب آنکھوں میں بس جائے گا گہنا جائے گا جنبش موج صبا سے بھی اگر لب ہل گئے بات پکڑی جائے گی محشر اٹھایا جائے گا سردیوں کی اوس میں ٹھٹھرا ہوا اک اجنبی کل تری ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئے

    یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئے یہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی وہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں یہ جو لوگ محو کلام تھے مجھے کھا گئے وہ جو مجھ میں ایک اکائی تھی وہ نہ جڑ سکی یہی ریزہ ریزہ جو ...

    مزید پڑھیے

    عالم سکر میں جو کہتا ہوں کہنے دے مجھے

    عالم سکر میں جو کہتا ہوں کہنے دے مجھے میرے اندر تو یہی کچھ ہے سو رہنے دے مجھے آ کبھی لمس کو یکسر نظر انداز کریں آنکھ سے آنکھ ملا خون میں بہنے دے مجھے دور جا کر بھی مری روح میں موجود نہ رہ تو کبھی اپنی جدائی بھی تو سہنے دے مجھے تو مجھے بنتے بگڑتے ہوئے اب غور سے دیکھ وقت کل چاک پہ ...

    مزید پڑھیے

    یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

    یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو وفور جذب سے ٹوٹو مگر سنائی نہ دو زمیں سے ایک تعلق ہے ناگزیر مگر جو ہو سکے تو اسے رنگ آشنائی نہ دو یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلے سبھی کو بزم میں دیکھو مگر دکھائی نہ دو شہنشہی بھی جو دل کے عوض ملے تو نہ لو فراز کوہ کے بدلے بھی یہ ترائی نہ ...

    مزید پڑھیے

    گو نظر اکثر وہ حسن لا زوال آ جائے گا

    گو نظر اکثر وہ حسن لا زوال آ جائے گا راہ میں لیکن سراب ماہ و سال آ جائے گا یا شکن آلود ہو جائے گی منظر کی جبیں یا ہماری آنکھ کے شیشے میں بال آ جائے گا ریت پر صورت گری کرتی ہے کیا باد جنوب کوئی دم میں موجۂ باد شمال آ جائے گا دوستو میری طبیعت کا بھروسہ کچھ نہیں ہنستے ہنستے آنکھ میں ...

    مزید پڑھیے

    گفتگو ترک خامشی ہے فقط

    گفتگو ترک خامشی ہے فقط ہم سفر ایک اجنبی ہے فقط عہد رفتہ کے ولولوں کا نشاں اک مسلسل سی بیکلی ہے فقط دیکھنا بھالنا گیا ترے ساتھ آنکھ مدت سے سوچتی ہے فقط ہر طرف اک اتھاہ سناٹا چاپ اپنی ہی گونجتی ہے فقط ہر طرف بے پناہ تاریکی اپنی آنکھوں کی روشنی ہے فقط اجنبیت کے یخ کدوں میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 5 سے 5