Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کی غزل

    یہ جام و بادہ و مینا تو سب دلاسے ہیں

    یہ جام و بادہ و مینا تو سب دلاسے ہیں لبوں کو دیکھ وہی عمر بھر کے پیاسے ہیں کرو جو یاد تو ہم سے بھی نسبتیں ہیں تمہیں وہ نسبتیں جو کف پا کو نقش پا سے ہیں ذرا میں زخم لگائے ذرا میں دے مرہم بڑے عجیب روابط مرے صبا سے ہیں ترے بغیر بھی کٹتی رہی ذرا نہ رکی شکایتیں مجھے عمر گریز پا سے ...

    مزید پڑھیے

    فصیل ذات گری قید سے رہا ہوئے ہم

    فصیل ذات گری قید سے رہا ہوئے ہم خیال غیر کی وسعت سے آشنا ہوئے ہم حصار لفظ میں آتا نہ تھا ملال دروں زبان حال سے آخر کہیں ادا ہوئے ہم نظر کریں وہ جو دل پر تو ہیں وہی کے وہی کبھی جو آئنہ دیکھیں تو کیا سے کیا ہوئے ہم چمن میں کھینچ کے لائی تھی جستجو جن کی وہ نکہتیں نہیں باقی تو لو ہوا ...

    مزید پڑھیے

    دن گزرتے رہے سانسوں میں تھکن آتی رہی

    دن گزرتے رہے سانسوں میں تھکن آتی رہی دل میں اڑ اڑ کے وہی گرد محن آتی رہی تھک گئے عرصۂ احساس میں چلتے چلتے راہ میں حسرت کوتاہیٔ فن آتی رہی بس دریچے سے لگے بیٹھے رہے اہل سفر سبزہ جلتا رہا اور یاد وطن آتی رہی گلشن دہر میں کچھ بوئے وفا باقی ہے کہ خزاں میں بھی صبا سوئے چمن آتی ...

    مزید پڑھیے

    گرتے ہوئے بدن کا نگر چھوڑ جاؤں گا

    گرتے ہوئے بدن کا نگر چھوڑ جاؤں گا گھبرا کے دستکوں سے یہ گھر چھوڑ جاؤں گا میں عین زندگی ہوں ٹھہرنا نہیں مجھے سب منظروں کو مثل نظر چھوڑ جاؤں گا خود خاک ہو کے گرد سفر میں رہوں گا اور ان بستیوں میں ذوق سفر چھوڑ جاؤں گا ہوگا نہ سوگوار مرے واسطے کوئی جلتا ہوا دیا ہوں سحر چھوڑ جاؤں ...

    مزید پڑھیے

    ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ سا

    ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ سا آئینے میں اک شخص ہے کمتر کوئی مجھ سا ایمان بھی تنہا ہے مرا کفر بھی تنہا مومن کوئی مجھ سا ہے نہ کافر کوئی مجھ سا ہے کون جو اس ابر کے پردے میں رواں ہے دیوانہ ہے دیوانہ سراسر کوئی مجھ سا کہسار کے دامن میں ملاتا ہے نہاں کون آواز سے آواز برابر ...

    مزید پڑھیے

    غم و سرور زمانے پہ کارگر کیا ہے

    غم و سرور زمانے پہ کارگر کیا ہے بہت بسے بہت اجڑے مگر اثر کیا ہے میں چلتا جاتا ہوں تحلیل ہوتا جاتا ہوں کڑکتی دھوپ میں شبنم کا یہ سفر کیا ہے زمین ہوں تو خزانے کہاں گئے میرے درخت ہوں تو مری شاخ کا ثمر کیا ہے ہزار آئنوں میں جیسے اک کرن محبوس نظر ہی کیا ہے مری نقطۂ نظر کیا ہے وہ آگ ...

    مزید پڑھیے

    بھریں نہ وقت کے ہاتھوں جراحتیں تیری

    بھریں نہ وقت کے ہاتھوں جراحتیں تیری رکھیں سنبھال کے دل نے امانتیں تیری چھپا کے تجھ سے کہاں اپنے روز و شب لے جاؤں جہان نور ترا اور ظلمتیں تیری بچھڑ کے تجھ سے ملا عمر بھر کا سناٹا بنا گئیں مجھے تنہا رفاقتیں تیری تو ہے وہ فاتح عالم کہ ایک دنیا نے شکست کھا کے سراہی ہی ہمتیں ...

    مزید پڑھیے

    چار دن کو ہے یہاں شرط اقامت کیا کیا

    چار دن کو ہے یہاں شرط اقامت کیا کیا فرصت زیست میں شامل ہے مصیبت کیا کیا سرپھرے لوگ ہیں ہم اپنے جنوں کی رو میں سوچ لیتے ہیں دل زار کی قیمت کیا کیا وہ تو کہئے کہ گزر کر خس و خاشاک ہوئے ورنہ سنگین تھی حالات کی صورت کیا کیا آج مشکل ہے بہت وعدۂ فردا پہ یقیں اور کل دوش پہ آئے گی ندامت ...

    مزید پڑھیے

    لب سے دل کا دل سے لب کا رابطہ کوئی نہیں

    لب سے دل کا دل سے لب کا رابطہ کوئی نہیں حسرتیں ہی حسرتیں ہیں مدعا کوئی نہیں حرف غم ناپید ہے آنکھوں میں نم ناپید ہے درد کا سیل رواں ہے راستا کوئی نہیں اپنے من کا عکس ہے اپنی صدا کی بازگشت دوست دشمن آشنا نا آشنا کوئی نہیں سب کے سب اپنے گریبانوں میں ہیں ڈوبے ہوئے گل سے گل تک رشتۂ ...

    مزید پڑھیے

    خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھے

    خرد سے دور غم تند خو میں اچھے تھے اسی جنوں میں اسی ہاؤ ہو میں اچھے تھے نکل کے آپ سے باہر خراب و خوار ہوئے مدام غرق ہم اپنے لہو میں اچھے تھے غرور زہد سے رنج گناہ بہتر تھا خراب شغل شراب و سبو میں اچھے تھے وہ رائیگاں بھی اگر تھی تو رائیگاں نہ کہو کہ روز و شب مرے اس جستجو میں اچھے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 5