ہوائے بے طرف و فصل بے ثمر گزری
ہوائے بے طرف و فصل بے ثمر گزری ترے بغیر گزرنا ہی کیا مگر گزری شریک شورش دنیا ہوں اور سوچتا ہوں کہ شمع بزم طرب سے بھی چشم تر گزری نہ تھی پہاڑ سے کچھ کم مگر مصیبت عمر ترے خیال میں گزری تو مختصر گزری کوئی بھی کام نہ آیا شکستہ بالی میں صبا بھی شاخ نشیمن کو کاٹ کر گزری مری نگاہ ...