Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کی غزل

    ہوائے بے طرف و فصل بے ثمر گزری

    ہوائے بے طرف و فصل بے ثمر گزری ترے بغیر گزرنا ہی کیا مگر گزری شریک شورش دنیا ہوں اور سوچتا ہوں کہ شمع بزم طرب سے بھی چشم تر گزری نہ تھی پہاڑ سے کچھ کم مگر مصیبت‌‌ عمر ترے خیال میں گزری تو مختصر گزری کوئی بھی کام نہ آیا شکستہ بالی میں صبا بھی شاخ نشیمن کو کاٹ کر گزری مری نگاہ ...

    مزید پڑھیے

    پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے

    پلٹ کر اشک سوئے چشم تر آتا نہیں ہے یہ وہ بھٹکا مسافر ہے جو گھر آتا نہیں ہے قفس اب آشیاں ہے خاک پر لکھی ہے روزی کبھی دل میں خیال بال و پر آتا نہیں ہے پہاڑوں کی سیاہی سے فزوں دل کی سیاہی وہ حسن اب اپنی آنکھوں کو نظر آتا نہیں ہے شجر برسوں سے نقش رائیگاں بن کر کھڑے ہیں کوئی موسم ہو ...

    مزید پڑھیے

    کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیں

    کہاں ہوں میں کہ مرا کوئی آشنا بھی نہیں کسی کا ذکر تو کیا گھر میں آئنہ بھی نہیں رہے خموش تو ٹوٹا نہ رشتۂ امید پکارتے تو خرابوں میں کوئی تھا بھی نہیں تری صدا پہ تو صدیاں بھی لوٹ آتی ہیں مجھے بلا میں کچھ ایسا شکستہ پا بھی نہیں یہ اور بات کہ نقش قدم دکھائی نہ دیں مگر وہ عرصۂ دل سے ...

    مزید پڑھیے

    یوں تو وہ شکل کھو گئی گردش ماہ و سال میں

    یوں تو وہ شکل کھو گئی گردش ماہ و سال میں پھول ہے اک کھلا ہوا حاشیۂ خیال میں اب بھی وہ روئے دل نشیں زرد سہی حسیں تو ہے جیسے جبین آفتاب مرحلۂ زوال میں اب بھی وہ میرے ہم سفر ہیں روش خیال پر اب وہ نشہ ہے ہجر میں تھا جو کبھی وصال میں ان کے خرام ناز کو بوئے گل و صبا کہا ہم نے مثال دی ...

    مزید پڑھیے

    دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرنا

    دل کو پیہم وہی اندوہ شماری کرنا ایک ساعت کو شب و روز پہ طاری کرنا اب وہ آنکھیں نہیں ملتیں کہ جنہیں آتا تھا خاک سے دل جو اٹے ہوں انہیں جاری کرنا موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا تو کہاں مرغ چمن فکر نشیمن میں پڑا کہ ترا کام تو تھا نالہ و زاری ...

    مزید پڑھیے

    اب سے پہلے وہ مری ذات پہ طاری تو نہ تھا

    اب سے پہلے وہ مری ذات پہ طاری تو نہ تھا دل میں رہتا تھا مگر خون میں جاری تو نہ تھا نبض چلتی ہے تو قدموں کی صدا آتی ہے اس قدر زخم جدائی کبھی کاری تو نہ تھا وہ تو بادل کا برسنا ہے عناصر کا اصول ورنہ اشکوں کا نمک آنکھ پہ بھاری تو نہ تھا دل میں کھلتے ہیں تری یاد کے اعجاز سے پھول اس میں ...

    مزید پڑھیے

    وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے

    وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے دست ساحل سے سمندر نہیں جانے دیتے سطح پر آئے ہوئے بن کے کف و موج و حباب زیر دریا یہی گوہر نہیں جانے دیتے ہیں مری راہ کا پتھر مری آنکھوں کا حجاب زخم باہر کے جو اندر نہیں جانے دیتے مجھ کو اس گنبد بے در سے پرے کا بھی ہے ذوق یہ مرے بال مرے پر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    پھر وہ گم گشتہ حوالے مجھے واپس کر دے

    پھر وہ گم گشتہ حوالے مجھے واپس کر دے وہ شب و روز وہ رشتے مجھے واپس کر دے آنکھ سے دل نے کہا رنگ جہاں شوق سے دیکھ میرے دیکھے ہوئے سپنے مجھے واپس کر دے میں تجھے دوں تری پانی کی لکھی تحریریں تو وہ خوں ناب نوشتے مجھے واپس کر دے میں شب و روز کا حاصل اسے لوٹا دوں گا وقت اگر میرے کھلونے ...

    مزید پڑھیے

    کہیں بھی مقام صدائے لب نہیں آ سکا

    کہیں بھی مقام صدائے لب نہیں آ سکا میں تری صدائے نگہ پہ کب نہیں آ سکا ترے ہجر تیرے وصال اپنے خیال میں کسی آئنے میں میں سب کا سب نہیں آ سکا ترے قرب میں مجھے موت یاد نہیں رہی وہ سحر ہوئی کہ خیال شب نہیں آ سکا جو تمام عمر رہا سبب کی تلاش میں وہ تری نگاہ میں بے سبب نہیں آ سکا ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو

    تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو دل تو وہ زخم ہے جسے آرام ہی نہ ہو چونکا ہوں نیم شب بھی یہی سوچ سوچ کر وہ آفتاب اب بھی لب بام ہی نہ ہو تم جس کو جانتے ہو فقط اپنی طبع خاص وہ رنج وہ فسردہ دلی عام ہی نہ ہو آہستہ اس لرزتے ہوئے پل پہ رکھ قدم صدیوں کا انہدام ترے نام ہی نہ ہو اے دل مفر تو ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 4 سے 5