Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کی نظم

    چند لمحے

    چند لمحے جنہیں اک لغزش پا نے میری کہیں ماضی کے اندھیروں میں کچل ڈالا تھا چوٹ کھائی ہوئی ناگن کی طرح لہرا کر میرے احساس کے ہر گوشے پہ چھا جاتے ہیں میری آنکھوں سے مے خواب اڑا جاتے ہیں رات بھر کے لیے دیوانہ بنا جاتے ہیں خون ہو جاتا ہے جب سوزش پنہاں سے بھڑکتا ہوا دل تیرنے لگتا ہے رگ ...

    مزید پڑھیے

    ایک خواب

    ساتھ اگر تم ہو تو پھر ہم ہنستے ہنستے چلتے چلتے دور آکاش کی حد تک جائیں کالی کالی سی دلدل سے تپتا تانبا پھوٹ رہا ہو مکڑی کے جالے کا فیتہ کاٹ کے ہم اس باغ میں جائیں جس میں کوئی کبھی نہ گیا ہو کوکنار کے پھول کھلے ہوں بھونرے ان کو چوم رہے ہوں پتھر سے پانی چلتا ہو میں پانی کا چلو بھر ...

    مزید پڑھیے

    ایک پیدل چلنے والے دوست کا نوحہ

    ہجوم سے بچ کے سونے سونے خموش رستوں پہ چلنے والا وہ اس زمانے میں پا پیادہ مسافرت کا امین رستہ بدل چکا ہے نظر عبث اس کا نقش مانوس راستوں پر تلاش کر کے چونکتی ہے مجھے خبر ہے وہ جا چکا ہے وہ جا بجا راہ میں ابھرتی شبیہ اس کی نگاہ کی تشنگی نے مثل سراب ایجاد کر رکھی ہے جب آخری بار اس کو ...

    مزید پڑھیے

    سبز سے سفید میں آنے کا غم

    نظر اٹھاؤں تو سنگ مرمر کی کور بے حس سفید آنکھیں نظر جھکاؤں تو شیر قالین گھورتا ہے مرے لیے اس محل میں آسودگی نہیں ہے کوئی مجھے ان سفید پتھر کے گنبدوں سے رہا کرائے میں اک صدا ہوں مگر یہاں گنگ ہو گیا ہوں مرے لیے تو انہیں درختوں کے سبز گنبد میں شانتی تھی جہاں مری بات گونجتی تھی

    مزید پڑھیے

    محاسبہ

    ہوا کہیں نام کو نہیں تھی اذان مغرب سے دن کی پسپا سپاہ کا دل دھڑک رہا تھا تمام رنگوں کے امتیازات مٹ چکے تھے ہر ایک شے کی سیہ قبا تھی جگہ جگہ بام و در کے پیکر افق کے رنگین چوکھٹے میں مثال تصویر جم گئے تھے شجر حجر سب کے سب گریباں میں سر جھکائے محاسبہ کر رہے تھے دن بھر کے نیک و بد ...

    مزید پڑھیے

    ہم زاد

    میں آج دفتر میں صبح پہنچا تو اک نیا زرد زرد چہرہ نظر پڑا جس کو دیکھتے ہی معاً مرے دل میں اک دریچہ کھلا اور اس کے عقب سے اس زرد شکل کی ہم شبیہ اک سرخ شکل ابھری شریر گستاخ بے تکلف ابھر کے میرے قریب آئی قریب آ کر نظر ملا کر وہ کھلکھلا کر ہنسی اور اپنے شریر پوروں سے میرے کالر کی سختیاں ...

    مزید پڑھیے

    فیصلہ

    اب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں اجنبی پھر نہ کوئی درپئے آزار آ جائے ایک دستک میں مری ساری فصیلیں ڈھا جائے اب کے دیوار میں دروازہ رکھوں یا نہ رکھوں ایک اہرام نہ چن لوں صفت دود حریر کوئی آئے تو بس اک گنبد در بستہ ملے راز سر بستہ ملے لاکھ سر پھوڑے صدا کوئی نہ مجھ تک ...

    مزید پڑھیے

    جست

    مرا حال یہ تھا زمستاں میں جب برف زاروں میں چلتے ہوئے گرسنہ بھیڑیوں کی قطاریں گزرتیں تو میں کپکپاتا یہ جی چاہتا عرصۂ زیست کو چھوڑ کر کوہساروں کے اس پار ڈیرا لگا لوں ادھر میرے جاتے ہی برفیں پگھل جائیں گرگان بے مہر میرے نقوش قدم سونگھ کر مجھ تک آنے نہ پائیں مگر اب تو جیسے مری روح ...

    مزید پڑھیے

    جانے کیا ہے

    جانے کیا ہے موت، کیا ہے زندگی چلتے چلتے کیسے تھم جاتی ہیں تصویریں تمام خاک ہو جاتی ہے پھر سے مشت خاک گاہے گاہے سنگ ہو جاتے ہیں چہروں کے نقوش اپنے اپنے زاویے پر منجمد دم بخود رہتے ہیں محو انتظار

    مزید پڑھیے

    نا بینائی میں ایک خواب

    میں ہوں سر چشمۂ اول سے بہت دور پئے نور بھٹکنے والا روشنی عکس بہ عکس آتی ہے ان آنکھوں تک آئنے اپنی خیانت سے نہیں خود واقف ان کو معلوم نہیں زاویے ان کے بدل دیتے ہیں کرنوں کا مزاج آج اس نور محرف سے ہے آنکھوں میں تھکن دل میں خناس کی سرگوشیٔ پیہم کی چبھن کاش سر چشمۂ اول سے اتر آئے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2