Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کی غزل

    دلوں میں بار یقین و گماں اٹھائے ہوئے

    دلوں میں بار یقین و گماں اٹھائے ہوئے رواں ہے رخت سفر کارواں اٹھائے ہوئے کوئی تو ہے پس دیوار گلستاں جس کے نظارہ جو ہیں شجر ایڑیاں اٹھائے ہوئے مری مثال پرانے شجر کی ہے دل پر ہزار باغ بہار و خزاں اٹھائے ہوئے فسون صحبت شب میں تو نیند ٹلتی رہی پھروں گا دن کو یہ بار گراں اٹھائے ...

    مزید پڑھیے

    کوئی سوال نہ کوئی جواب دل میں ہے

    کوئی سوال نہ کوئی جواب دل میں ہے بس ایک درد و الم کا سحاب دل میں ہے جراحتیں جو لگیں تن پہ زیب تن کر لیں جو دل کے زخم تھے ان کا حساب دل میں ہے اگر لہو ہے تو آنکھوں میں کیوں نہیں آتا یہ موج خوں ہے کہ موج سراب دل میں ہے مدام ظاہر و باطن میں یہ خلیج رہی نگاہ غرق گنہ احتساب دل میں ...

    مزید پڑھیے

    سماں غروب کا دل میں رہا ابھرتے ہوئے

    سماں غروب کا دل میں رہا ابھرتے ہوئے خیال خاک میں ملنے کا تھا سنورتے ہوئے زمیں اداس ہے اور آسماں پہ خندہ کناں گزر رہے ہیں ستارے اداس کرتے ہوئے بکھر گیا تو مجھے کوئی غم نہیں اس کا کہ راز مجھ پہ کئی وا ہوئے بکھرتے ہوئے فسردہ اتنی ہے اس بار رہ گزار خیال خرام یار جھجکتا ہے گل کترتے ...

    مزید پڑھیے

    اچانک رخ بدلتی جا رہی ہے

    اچانک رخ بدلتی جا رہی ہے زمیں محور سے ٹلتی جا رہی ہے ستارے سرخ ہوتے جا رہے ہیں ہر اک تقدیر جلتی جا رہی ہے نہ جانے یہ حیات ہرزہ پیما کہاں گرتی سنبھلتی جا رہی ہے پرندے آشیانوں کو رواں ہیں مسلسل شام ڈھلتی جا رہی ہے مرے بعد اب مری خاک لحد میں مری زنجیر گلتی جا رہی ہے

    مزید پڑھیے

    کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھے

    کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھے کہ ہارنے بھی نہ دے اور آزمائے مجھے اس انتظار میں ہوں نقش رائیگاں ہو کر ترا کرم کسی محراب میں سجائے مجھے ترے نثار کسی ایسے غم گسار کو بھیج کہ دل کی بھول بھلیوں سے ڈھونڈ لائے مجھے یہ جی میں ہے کہ سراپا وہ نغمہ بن جاؤں کہ جس کو تجھ سے محبت ہو ...

    مزید پڑھیے

    خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی

    خشک پتلی سے کوئی صورت نہ ٹھہرائی گئی آنکھ سے آنسو گئے میری کہ بینائی گئی صبح دم کیا ڈھونڈتے ہو شب رووں کے نقش پا جب سے اب تک بارہا موج صبا آئی گئی رو رہا ہوں ہر پرانی چیز کو پہچان کر جانے کس کی روح میرے روپ میں لائی گئی مطمئن ہو دیکھ کر تم رنگ تصویر حیات پھر وہ شاید وہ نہیں جو ...

    مزید پڑھیے

    وہ جو لوگ اہل کمال تھے وہ کہاں گئے

    وہ جو لوگ اہل کمال تھے وہ کہاں گئے وہ جو آپ اپنی مثال تھے وہ کہاں گئے مرے دل میں رہ گئی صرف حیرت آئنہ وہ جو نقش تھے خد و خال تھے وہ کہاں گئے گری آسماں سے تو خاک خاک میں آ ملی کبھی خاک میں پر و بال تھے وہ کہاں گئے سر جاں یہ کیوں فقط ایک شام ٹھہر گئی شب و روز تھے مہ و سال تھے وہ کہاں ...

    مزید پڑھیے

    عکس نے میرے رلایا ہے مجھے

    عکس نے میرے رلایا ہے مجھے کوئی اپنا نظر آیا ہے مجھے پیش آئینہ بہت سوچتا ہوں کس لیے اس نے بنایا ہے مجھے کس لیے وسعت صحرا دے کر تنگ گلیوں میں پھرایا ہے مجھے کس لیے میرے ہی صحن جاں میں مثل دیوار اٹھایا ہے مجھے میں کہیں اور کا رہنے والا غم کہاں کھینچ کے لایا ہے مجھے جس میں اس ...

    مزید پڑھیے

    سینوں میں تپش ہے کبھی شورش ہے سروں میں

    سینوں میں تپش ہے کبھی شورش ہے سروں میں کیا چیز بسا دی گئی مٹی کے گھروں میں چلتا ہوں سدا ساتھ لئے اپنی فصیلیں پہچان سکا کون مجھے ہم سفروں میں اڑنا ہے تو تہذیب کرو سوز دروں کی یہ ورنہ کہیں آگ لگا دے نہ پروں میں غیروں میں ہوئی عام تری دولت دیدار اک کحل بصر تھا کہ لٹا بے‌ بصروں ...

    مزید پڑھیے

    کچھ پھول تھے کچھ ابر تھا کچھ باد صبا تھی

    کچھ پھول تھے کچھ ابر تھا کچھ باد صبا تھی کچھ وقت تھا کچھ وقت سے باہر کی فضا تھی کچھ رنگ تھے کچھ دھوپ تھی کچھ دہشت انجام کچھ سانس تھے کچھ سانس میں خوشبوئے فنا تھی کچھ رنگ شفق تیز تھا کچھ آنکھ میں خوں تھا کچھ ذہن پہ چھائی ترے ہاتھوں کی حنا تھی کچھ گزری ہوئی عمر کی یادوں کا فسوں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 3 سے 5