بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ
بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ کنار شام و سحر میں کہاں ڈھلے ہم لوگ نہ کارواں نہ مسافر مگر جرس نہ تھمی نہ روشنی نہ حرارت مگر جلے ہم لوگ مقام جن کا مؤرخ کے حافظے میں نہیں شکست و فتح کے مابین مرحلے ہم لوگ نمود جسم کی شوریدہ خواہشیں دنیا فشار روح کے نادیدہ ولولے ہم لوگ نہ جانے ...