Khursheed Rizvi

خورشید رضوی

خورشید رضوی کی غزل

    بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ

    بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ کنار شام و سحر میں کہاں ڈھلے ہم لوگ نہ کارواں نہ مسافر مگر جرس نہ تھمی نہ روشنی نہ حرارت مگر جلے ہم لوگ مقام جن کا مؤرخ کے حافظے میں نہیں شکست و فتح کے مابین مرحلے ہم لوگ نمود جسم کی شوریدہ خواہشیں دنیا فشار روح کے نادیدہ ولولے ہم لوگ نہ جانے ...

    مزید پڑھیے

    ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو

    ابروئے ابر سے کرتا ہے اشارہ مجھ کو جھلک اس آنکھ کی دکھلا کے ستارہ مجھ کو ہوں میں وہ شمع سر طاق جلا کر سر شام بھول جاتا ہے مرا انجمن آرا مجھ کو رائیگاں وسعت ویراں میں یہ کھلتے ہوئے پھول ان کو دیکھوں تو یہ دیتے ہیں سہارا مجھ کو میری ہستی ہے فقط موج ہوا نقش حباب کوئی دم اور کریں آپ ...

    مزید پڑھیے

    میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں

    میں سوچتا تھا کہ وہ زخم بھر گیا کہ نہیں کھلا دریچہ در آئی صبا کہا کہ نہیں ہوا کا رخ تو اسی بام و در کی جانب ہے پہنچ رہی ہے وہاں تک مری صدا کہ نہیں زباں پہ کچھ نہ سہی سن کے میرا حال تباہ ترے ضمیر میں ابھری کوئی دعا کہ نہیں لبوں پہ آج سر بزم آ گئی تھی بات مگر وہ تیری نگاہوں کی التجا ...

    مزید پڑھیے

    جسم کی چوکھٹ پہ خم دل کی جبیں کر دی گئی

    جسم کی چوکھٹ پہ خم دل کی جبیں کر دی گئی آسماں کی چیز کیوں صرف زمیں کر دی گئی میرے ہاتھوں کی لکیروں ہی میں خم رکھا گیا میری افتاد طبیعت ہی غمیں کر دی گئی کل مری بے خواب آنکھوں کے مقابل رات بھر نقش تاروں میں وہ چشم سرمگیں کر دی گئی خون رلواتی رہی گزرے زمانوں کی شبیہ تھک گئیں ...

    مزید پڑھیے

    یہ شہرت ہے کہ رسوائی مگر حد سے زیادہ ہے

    یہ شہرت ہے کہ رسوائی مگر حد سے زیادہ ہے میں خود اتنا نہیں سایہ مرے قد سے زیادہ ہے مرے دل کی گرہ باتیں بنانے سے نہیں کھلتی کہ مجھ میں بستگی کچھ قفل ابجد سے زیادہ ہے کسی کے پاس حرف دل نشیں باقی نہیں ورنہ قبول اب بھی دلوں کی خاک میں رد سے زیادہ ہے سویدا کو مرے نسبت بہت ہے سنگ اسود ...

    مزید پڑھیے

    بڑا عجیب سماں آج رات خواب میں تھا

    بڑا عجیب سماں آج رات خواب میں تھا میں ان کے پاس تھا سیارہ آفتاب میں تھا صدف صدف جسے ڈھونڈ آئے ڈھونڈنے والے خدا کی شان وہ موتی کسی حباب میں تھا ادھر سے دست و نگاہ و زباں تمام سوال ادھر سے ایک سکوت گراں جواب میں تھا ہوا میں ایک ادھورا فسانہ کہتا ہوا یہ چاک چاک ورق جانے کس کتاب میں ...

    مزید پڑھیے

    نبض ایام ترے کھوج میں چلنا چاہے

    نبض ایام ترے کھوج میں چلنا چاہے وقت خود شیشۂ ساعت سے نکلنا چاہے دستکیں دیتا ہے پیہم مری شریانوں میں ایک چشمہ کہ جو پتھر سے ابلنا چاہے مجھ کو منظور ہے وہ سلسلۂ سنگ گراں کوہ کن مجھ سے اگر وقت بدلنا چاہے تھم گیا آ کے دم باز پسیں لب پہ وہ نام دل یہ موتی نہ اگلنا نہ نگلنا چاہے ہم تو ...

    مزید پڑھیے

    وہی خوشبو کبھی گلشن سے کبھی بن سے نکال

    وہی خوشبو کبھی گلشن سے کبھی بن سے نکال وہی آتش کبھی گل سے کبھی آہن سے نکال آنکھ کو وسعت صحرا کا تماشائی کر نگہ مردہ و افسردہ کو روزن سے نکال کر کچھ ایسا کہ تری خاک میں پرواز آئے اب کوئی اسپ فلک سیر اسی توسن سے نکال مجھ سے مرمر کا وہ ترشا ہوا بت کہتا تھا فن مری راہ کا پتھر ہے مجھے ...

    مزید پڑھیے

    دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے بہ ہر سو آج بھی

    دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے بہ ہر سو آج بھی یاد کرتا ہوں تری خوشبو تری خو آج بھی جانے کیوں جلتی سلگتی شام کے ایوان میں پھیل جاتی ہے تری باتوں کی خوشبو آج بھی زیست کے خستہ شکستہ گنبدوں میں گاہ گاہ گونجتا ہے تیری آوازوں کا جادو آج بھی زلف کب کی آتش ایام سے کمھلا گئی زلف کا سایہ ...

    مزید پڑھیے

    آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا

    آوارۂ غربت ہوں ٹھکانہ نہیں ملتا ناوک ہوں مجھے کوئی نشانہ نہیں ملتا جن لوگوں میں رہتا ہوں میں ان میں سے نہیں ہوں ہوں کون مجھے اپنا زمانہ نہیں ملتا دیوار تو اس دور میں ملتی ہے بہ ہر گام لیکن تہ دیوار خزانہ نہیں ملتا مدت سے ہے اشکوں کا تلاطم پس مژگاں رونے کے لئے کوئی بہانہ نہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 5