Khatir Ghaznavi

خاطر غزنوی

اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے

Famous for his ghazal 'Go zara si baaat par barson ke yaraane gai.' sung by many singers.

خاطر غزنوی کی غزل

    جب اس زلف کی بات چلی

    جب اس زلف کی بات چلی ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی ان آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی شمع کا انجام نہ پوچھ پروانوں کے ساتھ جلی اب کے بھی وہ دور رہے اب کے بھی برسات چلی خاطرؔ یہ ہے بازئ دل اس میں جیت سے مات بھلی

    مزید پڑھیے

    وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا

    وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا جیسے اب ہوں ترا سودائی نہیں تھا اتنا بارہا دل نے ترا قرب بھی چاہا تھا مگر آج کی طرح تمنائی نہیں تھا اتنا اس سے پہلے بھی کئی بار ملے تھے لیکن شوق دلدادۂ رسوائی نہیں تھا اتنا پاس رہ کر مجھے یوں قرب کا احساس نہ تھا دور رہ کر غم تنہائی نہیں تھا ...

    مزید پڑھیے

    ہر حقیقت کو گماں تک سوچوں

    ہر حقیقت کو گماں تک سوچوں میں بہاروں کو خزاں تک سوچوں گفتگو تلخ حقائق سے بھی ہو خواب ہی خواب کہاں تک سوچوں ہر قدم ایک معمہ بن جائے زندگی تجھ کو جہاں تک سوچوں سوچ بن جاتی ہے گرداب بلا ایک ہی بات کہاں تک سوچوں حد پرواز مری اتنی ہے لا مکاں کو بھی مکاں تک سوچوں دسترس کس کی مداوا ...

    مزید پڑھیے

    بستیاں ہو گئیں بے نام و نشاں راتوں رات

    بستیاں ہو گئیں بے نام و نشاں راتوں رات ایسے طوفان بھی آئے ہیں یہاں راتوں رات جی میں آتا ہے کہ تعبیر تجھی سے پوچھیں ہو گیا خواب ترا جسم جواں راتوں رات شام ہنگامہ تھا خوشیاں تھیں حسیں چہرے تھے کھو گئی محفل احباب کہاں راتوں رات حسن جلتا رہا شمعوں کی تپاں خلوت میں ہو گئی مشعل ...

    مزید پڑھیے

    الجھے الجھے دھاگے دھاگے سے خیالوں کی طرح

    الجھے الجھے دھاگے دھاگے سے خیالوں کی طرح ہو گیا ہوں ان دنوں تیرے سوالوں کی طرح اپنے دل کی وسعتوں میں ہر طرف بھٹکا پھرا بے کراں مبہم سرابوں میں غزالوں کی طرح یہ مرا احساس ہے یا جبر موسم کا اثر اب کی رت مہکے نہیں گل پچھلے سالوں کی طرح عصر حاضر کی جبیں پر تلخیاں کندہ ہوئیں تن گئے ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے مل کر اس قدر اپنوں سے بیگانے ہوئے

    تجھ سے مل کر اس قدر اپنوں سے بیگانے ہوئے اب تو پہچانے نہیں جاتے ہیں پہچانے ہوئے بت جنہیں ہم نے تراشا اور خدائی سونپ دی آ گئے ہیں سامنے پتھر وہی تانے ہوئے خلق کی تہمت سے چھوٹے سنگ طفلاں سے بچے خوب تھے وہ لوگ جو خود اپنے دیوانے ہوئے اس کو کیا کہئے کہ ہم ہر حال میں جلتے رہے دوریوں ...

    مزید پڑھیے

    پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے

    پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے ساحل پہ ریت چھوڑ کے دریا اتر گئے تیری انا نیاز کی کرنیں بجھا گئی جذبے جو دل میں ابھرے تھے شرمندہ کر گئے دل کی فضائیں آ کے کبھی خود بھی دیکھ لو تم نے جو داغ بخشے تھے کیا کیا نکھر گئے تیرے بدن کی لو میں کرشمہ نمو کا تھا غنچے جو تیری سیج پہ جاگے سنور ...

    مزید پڑھیے

    گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

    گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں ہم جہاں پہنچے ہمارے ...

    مزید پڑھیے

    فریاد بھی ہے سوئے ادب اپنے شہر میں

    فریاد بھی ہے سوئے ادب اپنے شہر میں ہم پھر رہے ہیں مہر بلب اپنے شہر میں اب کیا دیار غیر میں ڈھونڈیں ہم آشنا اپنے تو غیر ہو گئے سب اپنے شہر میں اب امتیاز دشمنی و دوستی کسے حالات ہو گئے ہیں عجب اپنے شہر میں جو پھول آیا سبز قدم ہو کے رہ گیا کب فصل گل ہے فصل طرب اپنے شہر میں جو راندۂ ...

    مزید پڑھیے

    کوئی کلی ہے نہ غنچہ نہ گل برائے صبا

    کوئی کلی ہے نہ غنچہ نہ گل برائے صبا چمن میں کانٹے ہیں دامن بچا کے آئے صبا نہ اب طلسم بہاراں نہ اب فسون جمال وہ لمحے خواب ہوئے خواب بھول جائے صبا کبھی فضاؤں میں خوشبو اڑائے پھرتی تھی مگر یہ دن کہ بہاروں میں خاک اڑائے صبا کلی ہے مہر بہ لب پھول ہے گریباں چاک اجل کی دھوپ ہے پھرتی ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 3