جب اس زلف کی بات چلی
جب اس زلف کی بات چلی ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی ان آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی شمع کا انجام نہ پوچھ پروانوں کے ساتھ جلی اب کے بھی وہ دور رہے اب کے بھی برسات چلی خاطرؔ یہ ہے بازئ دل اس میں جیت سے مات بھلی
اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے
Famous for his ghazal 'Go zara si baaat par barson ke yaraane gai.' sung by many singers.
جب اس زلف کی بات چلی ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی ان آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی شمع کا انجام نہ پوچھ پروانوں کے ساتھ جلی اب کے بھی وہ دور رہے اب کے بھی برسات چلی خاطرؔ یہ ہے بازئ دل اس میں جیت سے مات بھلی
وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا جیسے اب ہوں ترا سودائی نہیں تھا اتنا بارہا دل نے ترا قرب بھی چاہا تھا مگر آج کی طرح تمنائی نہیں تھا اتنا اس سے پہلے بھی کئی بار ملے تھے لیکن شوق دلدادۂ رسوائی نہیں تھا اتنا پاس رہ کر مجھے یوں قرب کا احساس نہ تھا دور رہ کر غم تنہائی نہیں تھا ...
ہر حقیقت کو گماں تک سوچوں میں بہاروں کو خزاں تک سوچوں گفتگو تلخ حقائق سے بھی ہو خواب ہی خواب کہاں تک سوچوں ہر قدم ایک معمہ بن جائے زندگی تجھ کو جہاں تک سوچوں سوچ بن جاتی ہے گرداب بلا ایک ہی بات کہاں تک سوچوں حد پرواز مری اتنی ہے لا مکاں کو بھی مکاں تک سوچوں دسترس کس کی مداوا ...
بستیاں ہو گئیں بے نام و نشاں راتوں رات ایسے طوفان بھی آئے ہیں یہاں راتوں رات جی میں آتا ہے کہ تعبیر تجھی سے پوچھیں ہو گیا خواب ترا جسم جواں راتوں رات شام ہنگامہ تھا خوشیاں تھیں حسیں چہرے تھے کھو گئی محفل احباب کہاں راتوں رات حسن جلتا رہا شمعوں کی تپاں خلوت میں ہو گئی مشعل ...
الجھے الجھے دھاگے دھاگے سے خیالوں کی طرح ہو گیا ہوں ان دنوں تیرے سوالوں کی طرح اپنے دل کی وسعتوں میں ہر طرف بھٹکا پھرا بے کراں مبہم سرابوں میں غزالوں کی طرح یہ مرا احساس ہے یا جبر موسم کا اثر اب کی رت مہکے نہیں گل پچھلے سالوں کی طرح عصر حاضر کی جبیں پر تلخیاں کندہ ہوئیں تن گئے ...
تجھ سے مل کر اس قدر اپنوں سے بیگانے ہوئے اب تو پہچانے نہیں جاتے ہیں پہچانے ہوئے بت جنہیں ہم نے تراشا اور خدائی سونپ دی آ گئے ہیں سامنے پتھر وہی تانے ہوئے خلق کی تہمت سے چھوٹے سنگ طفلاں سے بچے خوب تھے وہ لوگ جو خود اپنے دیوانے ہوئے اس کو کیا کہئے کہ ہم ہر حال میں جلتے رہے دوریوں ...
پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے ساحل پہ ریت چھوڑ کے دریا اتر گئے تیری انا نیاز کی کرنیں بجھا گئی جذبے جو دل میں ابھرے تھے شرمندہ کر گئے دل کی فضائیں آ کے کبھی خود بھی دیکھ لو تم نے جو داغ بخشے تھے کیا کیا نکھر گئے تیرے بدن کی لو میں کرشمہ نمو کا تھا غنچے جو تیری سیج پہ جاگے سنور ...
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں ہم جہاں پہنچے ہمارے ...
فریاد بھی ہے سوئے ادب اپنے شہر میں ہم پھر رہے ہیں مہر بلب اپنے شہر میں اب کیا دیار غیر میں ڈھونڈیں ہم آشنا اپنے تو غیر ہو گئے سب اپنے شہر میں اب امتیاز دشمنی و دوستی کسے حالات ہو گئے ہیں عجب اپنے شہر میں جو پھول آیا سبز قدم ہو کے رہ گیا کب فصل گل ہے فصل طرب اپنے شہر میں جو راندۂ ...
کوئی کلی ہے نہ غنچہ نہ گل برائے صبا چمن میں کانٹے ہیں دامن بچا کے آئے صبا نہ اب طلسم بہاراں نہ اب فسون جمال وہ لمحے خواب ہوئے خواب بھول جائے صبا کبھی فضاؤں میں خوشبو اڑائے پھرتی تھی مگر یہ دن کہ بہاروں میں خاک اڑائے صبا کلی ہے مہر بہ لب پھول ہے گریباں چاک اجل کی دھوپ ہے پھرتی ہے ...