جب اس زلف کی بات چلی
جب اس زلف کی بات چلی
ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی
ان آنکھوں نے لوٹ کے بھی
اپنے اوپر بات نہ لی
شمع کا انجام نہ پوچھ
پروانوں کے ساتھ جلی
اب کے بھی وہ دور رہے
اب کے بھی برسات چلی
خاطرؔ یہ ہے بازئ دل
اس میں جیت سے مات بھلی