Khatir Ghaznavi

خاطر غزنوی

اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے

Famous for his ghazal 'Go zara si baaat par barson ke yaraane gai.' sung by many singers.

خاطر غزنوی کے تمام مواد

21 غزل (Ghazal)

    راز دل جو تری محفل میں بھی افشا نہ ہوا

    راز دل جو تری محفل میں بھی افشا نہ ہوا یا سر دار ہوا یا سر مے خانہ ہوا ایک ہم ہیں کہ تصور کہ طرح ساتھ رہے ایک تو ہے کہ جو خلوت میں بھی تنہا نہ ہوا کیا بھروسہ ہے ترے لطف و کرم کا اے دوست جس طرح سایۂ دیوار ہوا یا نہ ہوا شبنمستاں میں اتر آئی تھی سورج کی کرن آئنہ خانۂ گل تھا کہ صنم ...

    مزید پڑھیے

    اک تجسس دل میں ہے یہ کیا ہوا کیسے ہوا

    اک تجسس دل میں ہے یہ کیا ہوا کیسے ہوا جو کبھی اپنا نہ تھا وہ غیر کا کیسے ہوا میں کہ جس کی میں نے تو دیکھا نہ تھا سوچا نہ تھا سوچتا ہوں وہ صنم میرا خدا کیسے ہوا ہے گماں دیوار زنداں کا فصیل شہر پر وہ جو اک شعلہ تھا ہر دل میں فنا کیسے ہوا رنگ خوں روز ازل سے ہے نشان انقلاب زیست کا ...

    مزید پڑھیے

    وا چشم تماشا لب اظہار سلا ہے

    وا چشم تماشا لب اظہار سلا ہے کوئی پس دیوار مجھے دیکھ رہا ہے مٹی تو مری مر بھی چکی زندہ صدا ہے میں چپ ہوں مگر درد مرا بول رہا ہے اشکوں کا ہجوم آج جسے ڈھونڈ رہا ہے وہ درد کے دریا میں کہیں ڈوب گیا ہے کیا زہر سا ہر سمت فضاؤں میں گھلا ہے جو چہرہ بھی دیکھو وہی اترا سا ہوا ہے اب خون کے ...

    مزید پڑھیے

    فضا کا ذرہ ذرہ عشق کی تصویر تھا کل شب جہاں میں تھا

    فضا کا ذرہ ذرہ عشق کی تصویر تھا کل شب جہاں میں تھا میں خود اپنی نظر میں صاحب توقیر تھا کل شب جہاں میں تھا جسے دیکھا وہ دیوانہ تھا نقش دلنشیں کے حسن عادل کا جسے سوچا فنا کے رنگ کی تفسیر تھا کل شب جہاں میں تھا مرا دل میرے جس پہلو میں رقصاں تھا اسی پہلو میں جنت تھی یہ منظر چشم وا کے ...

    مزید پڑھیے

    تری طلب تھی ترے آستاں سے لوٹ آئے

    تری طلب تھی ترے آستاں سے لوٹ آئے خزاں نصیب رہے گلستاں سے لوٹ آئے بصد یقیں بڑھے حد گماں سے لوٹ آئے دل و نظر کے تقاضے کہاں سے لوٹ آئے سر نیاز کو پایا نہ جب ترے قابل خراب عشق ترے آستاں سے لوٹ آئے قفس کے انس نے اس درجہ کر دیا مجبور کہ اس کی یاد میں ہم آشیاں سے لوٹ آئے بلا رہی ہیں جو ...

    مزید پڑھیے

تمام

7 نظم (Nazm)

    وہی لڑکی

    بھوری آنکھوں والی لڑکی تجھ سے پہلے میرے پاس بھی آتی تھی اپنے گھر کی اک اک بات سناتی تھی مہندی اور وسمے سے عاری کالے بالوں والی امی جلتے چراغوں جیسے آنکھوں والی بہنوں ان کے سنگتروں کی پھانکوں جیسے ہونٹوں دودھ کے پیالوں جیسے اجلے گالوں روشن جسموں سرو قدوں کے قصے سنایا کرتی ...

    مزید پڑھیے

    منی کا گھوڑا

    منی نے پہنا ریشم کا جوڑا بیری کا جھولا بنا ہے گھوڑا چابک نہ کھائی منہ بھی نہ موڑا دوڑا ہوا میں ہر شے کو چھوڑا رسی کو لیکن اس نے نہ توڑا بیری کا جھولا منی کا گھوڑا منی کی چنری گھوڑے کی دم ہے گھوڑا ہے ایسا پاؤں نہ سم ہے منی جو کہہ دے نظروں سے گم ہے

    مزید پڑھیے

    جنگل میں منگل

    اک جنگل میں ہوئے اکٹھے سارے جانوروں کے بچے بھیڑ نے اپنا للا بھیجا گائے نے بھی بچھڑا بھیجا کتے کا پلا بھی آیا الو کا پٹھا بھی آیا بکری نے بھی میمنے بھیجے اور بلی نے بلوٹے بھیجے مرغی کے چوزے بھی آئے بطخ کے بچے بھی آئے گھوڑے کا چالاک بچھیرا بھینس کے کڑے کے ساتھ آیا باز کبوتر کوا ...

    مزید پڑھیے

    خیبر میل

    شام پشاور کا اسٹیشن سج کر بنا ہوا تھا دلہن اسٹیشن پر بھیڑ بڑی تھی سامنے خیبر میل کھڑی تھی لوگ ہی لوگ تھے اندر باہر کالے گورے افسر نوکر قلی اٹھائے ٹرنک اور بستر نمبر دے کر بھاگے اندر بابا نے ہم کو ٹھہرایا ٹکٹ کراچی کا کٹوایا بھیڑ بھڑکا شور شرابہ پیچھے ہم اور آگے بابا اپنی بغل میں ...

    مزید پڑھیے

    دس چوزے

    اک دن بی مرغی سے چھپ کر نکلے سیر کو چوزے دس کچل کے بھاگی اک چوزے کو شہر کی نیلی اومنی بس باقی رہ گئے نو چوں چوں کرتے شور مچاتے آگے بڑھے یہ چوزے نو ٹھہر گیا اک چوزہ دیکھ کے کوڑے کے اک ڈھیر میں جو باقی رہ گئے آٹھ چوں چوں کرتے شور مچاتے آگے بڑھے اب چوزے آٹھ دیکھنے جوہڑ پر ایک ٹھہرا بطخ ...

    مزید پڑھیے

تمام