Khatir Ghaznavi

خاطر غزنوی

اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے

Famous for his ghazal 'Go zara si baaat par barson ke yaraane gai.' sung by many singers.

خاطر غزنوی کی غزل

    راز دل جو تری محفل میں بھی افشا نہ ہوا

    راز دل جو تری محفل میں بھی افشا نہ ہوا یا سر دار ہوا یا سر مے خانہ ہوا ایک ہم ہیں کہ تصور کہ طرح ساتھ رہے ایک تو ہے کہ جو خلوت میں بھی تنہا نہ ہوا کیا بھروسہ ہے ترے لطف و کرم کا اے دوست جس طرح سایۂ دیوار ہوا یا نہ ہوا شبنمستاں میں اتر آئی تھی سورج کی کرن آئنہ خانۂ گل تھا کہ صنم ...

    مزید پڑھیے

    اک تجسس دل میں ہے یہ کیا ہوا کیسے ہوا

    اک تجسس دل میں ہے یہ کیا ہوا کیسے ہوا جو کبھی اپنا نہ تھا وہ غیر کا کیسے ہوا میں کہ جس کی میں نے تو دیکھا نہ تھا سوچا نہ تھا سوچتا ہوں وہ صنم میرا خدا کیسے ہوا ہے گماں دیوار زنداں کا فصیل شہر پر وہ جو اک شعلہ تھا ہر دل میں فنا کیسے ہوا رنگ خوں روز ازل سے ہے نشان انقلاب زیست کا ...

    مزید پڑھیے

    وا چشم تماشا لب اظہار سلا ہے

    وا چشم تماشا لب اظہار سلا ہے کوئی پس دیوار مجھے دیکھ رہا ہے مٹی تو مری مر بھی چکی زندہ صدا ہے میں چپ ہوں مگر درد مرا بول رہا ہے اشکوں کا ہجوم آج جسے ڈھونڈ رہا ہے وہ درد کے دریا میں کہیں ڈوب گیا ہے کیا زہر سا ہر سمت فضاؤں میں گھلا ہے جو چہرہ بھی دیکھو وہی اترا سا ہوا ہے اب خون کے ...

    مزید پڑھیے

    فضا کا ذرہ ذرہ عشق کی تصویر تھا کل شب جہاں میں تھا

    فضا کا ذرہ ذرہ عشق کی تصویر تھا کل شب جہاں میں تھا میں خود اپنی نظر میں صاحب توقیر تھا کل شب جہاں میں تھا جسے دیکھا وہ دیوانہ تھا نقش دلنشیں کے حسن عادل کا جسے سوچا فنا کے رنگ کی تفسیر تھا کل شب جہاں میں تھا مرا دل میرے جس پہلو میں رقصاں تھا اسی پہلو میں جنت تھی یہ منظر چشم وا کے ...

    مزید پڑھیے

    تری طلب تھی ترے آستاں سے لوٹ آئے

    تری طلب تھی ترے آستاں سے لوٹ آئے خزاں نصیب رہے گلستاں سے لوٹ آئے بصد یقیں بڑھے حد گماں سے لوٹ آئے دل و نظر کے تقاضے کہاں سے لوٹ آئے سر نیاز کو پایا نہ جب ترے قابل خراب عشق ترے آستاں سے لوٹ آئے قفس کے انس نے اس درجہ کر دیا مجبور کہ اس کی یاد میں ہم آشیاں سے لوٹ آئے بلا رہی ہیں جو ...

    مزید پڑھیے

    جفائیں بخش کے مجھ کو مری وفا مانگیں

    جفائیں بخش کے مجھ کو مری وفا مانگیں وہ میرے قتل کا مجھ ہی سے خوں بہا مانگیں یہ دل ہمارے لیے جس نے رت جگے کاٹے اب اس سے بڑھ کے کوئی دوست تجھ سے کیا مانگیں وہی بجھاتے ہیں پھونکوں سے چاند تاروں کو کہ جن کی شب کے اجالوں کی ہم دعا مانگیں فضائیں چپ ہیں کچھ ایسی کہ درد بولتا ہے بدن کے ...

    مزید پڑھیے

    انساں ہوں گھر گیا ہوں زمیں کے خداؤں میں

    انساں ہوں گھر گیا ہوں زمیں کے خداؤں میں اب بستیاں بساؤں گا جا کر خلاؤں میں یادوں کے نقش کندہ ہیں ناموں کے روپ میں ہم نے بھی دن گزارے درختوں کی چھاؤں میں دوڑا رگوں میں خوں کی طرح شور شہر کا خاموشیوں نے چھین لیا چین گاؤں میں یوں تو رواں ہیں میرے تعاقب میں منزلیں لیکن میں ٹھوکروں ...

    مزید پڑھیے

    کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں

    کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں تو اور حریم ناز میں پابستۂ حنا ہم پھر رہے ہیں آبلہ پا تیرے شہر میں کیا جانے کیا ہوا کہ پریشان ہو گئی اک لحظہ رک گئی تھی صبا تیرے شہر میں کچھ دشمنی کا ڈھب ہے نہ اب دوستی کا طور دونوں کا ایک رنگ ہوا تیرے شہر ...

    مزید پڑھیے

    آرزوئیں نارسائی روبرو میں اور تو

    آرزوئیں نارسائی روبرو میں اور تو کیا عجب قربت تھی وہ بھی میں نہ تو میں اور تو جھٹپٹا خونی افق کی وسعتیں خاموشیاں فاصلے دو پیڑ تنہا ہو بہو میں اور تو خشک آنکھوں کے جزیروں میں بگولوں کا غبار دھڑکنوں کا شور سرمہ در گلو میں اور تو بارش سنگ ملامت اور خلقت شہر کی پیار کے معصوم جذبوں ...

    مزید پڑھیے

    ہے گرم ملکوں کا سورج ترے جلال کی گرد

    ہے گرم ملکوں کا سورج ترے جلال کی گرد غرور کاہکشاں ہے ترے جمال کی گرد محبتوں کے خرابوں میں دھوپ کم نکلی کبھی جدائی کے کہرے کبھی ملال کی گرد کبھی تو گزرے ادھر سے بھی کاروان بہار کبھی تو پہنچے یہاں بھی ترے خیال کی گرد ہمارے بالوں پہ موسم ہے برف باری کا ہمارے چہرے پہ اڑتی ہے ماہ و ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 3