وہی لڑکی
بھوری آنکھوں والی لڑکی تجھ سے پہلے میرے پاس بھی آتی تھی اپنے گھر کی اک اک بات سناتی تھی مہندی اور وسمے سے عاری کالے بالوں والی امی جلتے چراغوں جیسے آنکھوں والی بہنوں ان کے سنگتروں کی پھانکوں جیسے ہونٹوں دودھ کے پیالوں جیسے اجلے گالوں روشن جسموں سرو قدوں کے قصے سنایا کرتی ...