ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے
ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے زندگی پھول ہے پتھر سے مگر بھاری ہے ایک عادت سی ہے بیزار طبیعت رہنا ورنہ اس وقت کہاں کوئی بھی بے زاری ہے سرفروشی کا مزہ ہے نہ خطا پوشی کا دشمن جان بھی جذبات سے اب عاری ہے آؤ سنسار کی قیمت میں لگائیں بولی لوگ کہتے ہیں کہ انسان میں ناداری ...