KHalid Malik Sahil

خالد ملک ساحل

خالد ملک ساحل کی غزل

    ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے

    ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے زندگی پھول ہے پتھر سے مگر بھاری ہے ایک عادت سی ہے بیزار طبیعت رہنا ورنہ اس وقت کہاں کوئی بھی بے زاری ہے سرفروشی کا مزہ ہے نہ خطا پوشی کا دشمن جان بھی جذبات سے اب عاری ہے آؤ سنسار کی قیمت میں لگائیں بولی لوگ کہتے ہیں کہ انسان میں ناداری ...

    مزید پڑھیے

    بے مزہ تھی جو بد مزہ کر دی

    بے مزہ تھی جو بد مزہ کر دی زندگی آپ نے سزا کر دی ایک پردہ تھا دوستی کیا تھی باتوں باتوں میں ناروا کر دی تو نے وعدہ کیا تھا جس دن کا دل نے اس شام انتہا کر دی تیرے حصے کا انتظار کیا پھر نماز وفا ادا کر دی دیکھ کر بھی مجھے نہیں دیکھا گویا رشتے کی ابتدا کر دی تیرے وعدے تری امانت ...

    مزید پڑھیے

    میں بھی حضور یار بہت دیر تک رہا

    میں بھی حضور یار بہت دیر تک رہا آنکھوں میں پھر خمار بہت دیر تک رہا کل شام میرے قتل کی تاریخ تھی مگر دشمن کا انتظار بہت دیر تک رہا اب لے چلا ہے دشت میں میرا جنوں مجھے اس جن پہ اختیار بہت دیر تک رہا وہ انکشاف ذات کا لمحہ تھا کھل گیا شاید درون غار بہت دیر تک رہا اب دیکھتے ہو کوئی ...

    مزید پڑھیے

    اک تری یاد کے سہارے پر

    اک تری یاد کے سہارے پر زندگی کٹ گئی کنارے پر کون رستے بدل رہا ہے وہاں کون رہتا ہے اس ستارے پر روشنی کی اگر علامت ہے راکھ اڑتی ہے کیوں شرارے پر امتحاں کی خبر نہیں لیکن رو رہا ہوں ابھی خسارے پر جب نظر کو نظر نہیں آیا زندگی رک گئی نظارے پر میرے اصرار پر نہیں آیا جس کو اصرار تھا ...

    مزید پڑھیے

    میرے بھی کچھ گلے تھے مگر رات ہو گئی

    میرے بھی کچھ گلے تھے مگر رات ہو گئی کچھ تم بھی کہ رہے تھے مگر رات ہو گئی دنیا سے دور اپنے برابر کھڑے رہے خوابوں میں جاگتے تھے مگر رات ہو گئی اعصاب سن رہے تھے تھکاوٹ کی گفتگو الجھن تھی مسئلے تھے مگر رات ہو گئی آنکھوں کی روشنی میں اندھیرے بکھر گئے خیمے سے کچھ جلے تھے مگر رات ہو ...

    مزید پڑھیے

    کسی بھی راہ پہ رکنا نہ فیصلہ کر کے

    کسی بھی راہ پہ رکنا نہ فیصلہ کر کے بچھڑ رہے ہو مری جان حوصلہ کر کے میں انتظار کی حالت میں رہ نہیں سکتا وہ انتہا بھی کرے آج ابتدا کر کے تری جدائی کا منظر بیاں نہیں ہوگا میں اپنا سایہ بھی رکھوں اگر جدا کر کے مجھے تو بحر بلا خیز کی ضرورت تھی سمٹ گیا ہوں میں دنیا کو راستہ کر کے کسی ...

    مزید پڑھیے

    میں اپنی آنکھ بھی خوابوں سے دھو نہیں پایا

    میں اپنی آنکھ بھی خوابوں سے دھو نہیں پایا میں کیسے دوں گا زمانے کو جو نہیں پایا شب فراق تھی موسم عجیب تھا دل کا میں اپنے سامنے بیٹھا تھا رو نہیں پایا مری خطا ہے کہ میں خواہشوں کے جنگل میں کوئی ستارہ کوئی چاند بو نہیں پایا حسین پھولوں سے دیوار و در سجائے تھے بس ایک برگ دل آسا ...

    مزید پڑھیے

    حادثے پیار میں ایسے بھی تو ہو جاتے ہیں

    حادثے پیار میں ایسے بھی تو ہو جاتے ہیں رتجگے خیمۂ تسکین میں ہو جاتے ہیں بعض اوقات ترا نام بدل جاتا ہے بعض اوقات ترے نقش بھی کھو جاتے ہیں چلتے چلتے کسی رستے کے کنارے پہ کہیں یاد کے پھول مسافت میں پرو جاتے ہیں تجھ کو دیکھا ہے تو آثار نظر آئے ہیں تجھ کو دیکھا ہے تو ماضی کو بھی رو ...

    مزید پڑھیے

    میرا قرضہ ادا کرے کوئی

    میرا قرضہ ادا کرے کوئی تاک میں ہوں خطا کرے کوئی گونج کی لہر سے نکل جاؤں میں کہوں تو سنا کرے کوئی کس کو طاقت ہے مسکرانے کی بے وفا سے وفا کرے کوئی اپنا احساس ہو رہا ہے مجھے مجھ سے مجھ کو جدا کرے کوئی یہ زمیں آسماں نہیں ساحلؔ کس قدر حوصلہ کرے کوئی

    مزید پڑھیے

    یوں دل و جان کی توقیر میں مصروف تھا میں

    یوں دل و جان کی توقیر میں مصروف تھا میں جیسے اجداد کی جاگیر میں مصروف تھا میں تیشۂ وقت نے بنیاد ہلا دی ورنہ ہر گھڑی ذات کی تعمیر میں مصروف تھا میں خواب دیکھا تھا محبت کا محبت کی قسم پھر اسی خواب کی تعبیر میں مصروف تھا میں لفظ رنگوں میں نہائے ہوئے گھر میں آئے تیری آواز کی تصویر ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2