ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے

ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے
زندگی پھول ہے پتھر سے مگر بھاری ہے


ایک عادت سی ہے بیزار طبیعت رہنا
ورنہ اس وقت کہاں کوئی بھی بے زاری ہے


سرفروشی کا مزہ ہے نہ خطا پوشی کا
دشمن جان بھی جذبات سے اب عاری ہے


آؤ سنسار کی قیمت میں لگائیں بولی
لوگ کہتے ہیں کہ انسان میں ناداری ہے


جانے کس سوچ کے لمحے نے چھوا ہے تجھ کو
اک عجب کیف مری روح پہ بھی طاری ہے


تشنہ تشنہ سے بدن میں ہے شرابی نشہ
چشمۂ فیض تری آنکھ سے پھر جاری ہے