اپنے آنسو ہیں تمہارے نہیں رو سکتا میں
اپنے آنسو ہیں تمہارے نہیں رو سکتا میں آج آنکھوں سے ستارے نہیں رو سکتا میں ایک تکلیف کا دریا ہے بدن میں لیکن بیٹھ کر اس کے کنارے نہیں رو سکتا میں میں ہوں مجذوب مرے دل کی حقیقت ہے الگ لاکھ ہوتے ہوں خسارے نہیں رو سکتا میں جسم ہے روح کی حدت میں پگھلنے والا ہوں شرابور شرارے نہیں رو ...