KHalid Malik Sahil

خالد ملک ساحل

خالد ملک ساحل کی غزل

    اپنے آنسو ہیں تمہارے نہیں رو سکتا میں

    اپنے آنسو ہیں تمہارے نہیں رو سکتا میں آج آنکھوں سے ستارے نہیں رو سکتا میں ایک تکلیف کا دریا ہے بدن میں لیکن بیٹھ کر اس کے کنارے نہیں رو سکتا میں میں ہوں مجذوب مرے دل کی حقیقت ہے الگ لاکھ ہوتے ہوں خسارے نہیں رو سکتا میں جسم ہے روح کی حدت میں پگھلنے والا ہوں شرابور شرارے نہیں رو ...

    مزید پڑھیے

    جواب جس کا نہیں کوئی وہ سوال بنا

    جواب جس کا نہیں کوئی وہ سوال بنا میں خواب میں اسے دیکھوں کوئی خیال بنا میں اعتراف کے موسم میں چپ نہیں رہتا مرے خدا مری ہستی کے خد و خال بنا وہ کون ہے جو مری ہجرتوں سے ٹوٹ گیا وہ کون شخص ہے جو آئینہ مثال بنا وہ کس کے دھیان میں آیا تھا موسموں کی طرح وہ کون ہے جو مری سوچ کا خیال ...

    مزید پڑھیے

    جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو

    جنوں کا کوئی فسانہ تو ہاتھ آنے دو میں رو پڑوں گا بہانہ تو ہاتھ آنے دو میں اپنی ذات کے روشن کروں گا ویرانے قبولیت کا زمانہ تو ہاتھ آنے دو میں روپ اور سنواروں گا داستانوں کے کسی کا قصہ پرانا تو ہاتھ آنے دو مری نظر میں زمانے کی کج ادائی ہے نشاں بہت ہیں نشانہ تو ہاتھ آنے دو خرید ...

    مزید پڑھیے

    کچھ دل کا تعلق تو نبھاؤ کہ چلا میں

    کچھ دل کا تعلق تو نبھاؤ کہ چلا میں یا ٹوٹ کے آواز لگاؤ کہ چلا میں درپیش مسافت ہے کسی خواب نگر کی اک دیپ مرے پاس جلاؤ کہ چلا میں اس شہر کے لوگوں پہ بھروسا نہیں کرنا زنجیر کوئی در پہ لگاؤ کہ چلا میں تا دل میں تمھارے بھی نہ احساس وفا ہو جی بھر کے مجھے آج ستاؤ کہ چلا میں مشتاق ...

    مزید پڑھیے

    بڑے جتن سے بڑے سوچ سے اتارا گیا

    بڑے جتن سے بڑے سوچ سے اتارا گیا مرا ستارا سر خاک بھی سنوارا گیا مری وفا نے جنوں کا حساب دینا تھا سو آج مجھ کو بیابان سے پکارا گیا بس ایک خوف تھا زندہ تری جدائی کا مرا وہ آخری دشمن بھی آج مارا گیا مجھے یقین تھا اس تجربے سے پہلے بھی سنا ہے غیر سے جلوہ نہیں سہارا گیا سجا دیا ہے ...

    مزید پڑھیے

    تقدیر کے دربار میں القاب پڑے تھے

    تقدیر کے دربار میں القاب پڑے تھے ہم لوگ مگر خواب میں بے خواب پڑے تھے یخ بستہ ہواؤں میں تھی خاموش حقیقت ہم سوچ کی دہلیز پہ بیتاب پڑے تھے تصویر تھی احساس کی تحریر ہوا کی صحرا میں ترے عکس کے گرداب پڑے تھے کل رات میں جس راہ سے گھر لوٹ کے آیا اس راہ میں بکھرے ہوئے کچھ خواب پڑے ...

    مزید پڑھیے

    تو تشنگی کی اذیت کبھی فرات سے پوچھ

    تو تشنگی کی اذیت کبھی فرات سے پوچھ اندھیری رات کی حسرت اندھیری رات سے پوچھ گزر رہی ہے جو دل پر وہی حقیقت ہے غم جہاں کا فسانہ غم حیات سے پوچھ میں اپنے آپ میں بیٹھا ہوں بے خبر تو نہیں نہیں ہے کوئی تعلق تو اپنی ذات سے پوچھ دکھی ہے شہر کے لوگوں سے بدمزاج بہت جو پوچھنا ہے محبت سے ...

    مزید پڑھیے

    میں شرمسار ہوں اپنے ضمیر کے آگے

    میں شرمسار ہوں اپنے ضمیر کے آگے کہ ہاتھ خالی تھا میرا فقیر کے آگے مرا یقین تھا حد گمان کے اندر کبھی بھی سوچا نہیں ہے لکیر کے آگے کوئی تو جذبہ تھا مہجور کے خیالوں میں پگھل رہی تھیں سلاسل اسیر کے آگے چراغ سحری تھا لیکن عجیب روشن تھا چمک رہا تھا وہ ماہ منیر کے آگے میں کیسے اس کے ...

    مزید پڑھیے

    لطف دنیا تو فقط دیدۂ نمناک میں ہے

    لطف دنیا تو فقط دیدۂ نمناک میں ہے شیخ صاحب کی نظر آج بھی افلاک میں ہے جس نے تعمیر کیا مجھ کو لہو ہاتھوں سے خاک ہو جاؤں کہ وہ شخص بھی اب خاک میں ہے مجھ کو مجبور کیا ہے مری مجبوری نے آج بھی میری انا کاغذی پوشاک میں ہے میں جو بیمار ہوا اس نے عیادت کی ہے خوئے رحمت بھی اسی قاتل سفاک ...

    مزید پڑھیے

    جو شخص آب و ہوا پر یقین رکھتا ہے

    جو شخص آب و ہوا پر یقین رکھتا ہے وہ موسموں کی عطا پر یقین رکھتا ہے تمام عمر محبت نہیں ملی جس کو سنا ہے وہ بھی خدا پر یقین رکھتا ہے چراغ اس کا کبھی بھی جلا نہیں لیکن وہ آج تک بھی دعا پر یقین رکھتا ہے ہمیشہ ٹوٹ کے آتا ہے میرے پہلو میں وہ بے وفا بھی وفا پر یقین رکھتا ہے کوئی غرض ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2