دن رات
جاگتے خیالوں کو، سوچتے سوالوں کو رتجگے کی عادت ہے عاشقی کی فطرت ہے تجھ کو نیند پیاری ہے تجھ پہ رات بھاری ہے نیند موت ہوتی ہے خواب کی، خیالوں کی زندگی کے سالوں کی تجھ کو ہر خبر جاناں! میری رات جلنے سے میرے سوچ کھلنے سے تیرا دن نکلتا ہے
جاگتے خیالوں کو، سوچتے سوالوں کو رتجگے کی عادت ہے عاشقی کی فطرت ہے تجھ کو نیند پیاری ہے تجھ پہ رات بھاری ہے نیند موت ہوتی ہے خواب کی، خیالوں کی زندگی کے سالوں کی تجھ کو ہر خبر جاناں! میری رات جلنے سے میرے سوچ کھلنے سے تیرا دن نکلتا ہے
جب درد کی لہریں ڈوب گئیں جب آنکھیں چہرہ بھول گئیں تم سوچ کے آنگن میں کیسے پھر یاد کے گھنگرو لے آئے میں کیسی مہک سے پاگل ہوں پھر رقص جنوں میں شامل ہوں پھر چہرہ چہرہ تیرا چہرہ پھر آنکھ میں تیری آنکھوں کا پر کیف نظارہ جھوم اٹھا پھر سارا زمانہ جھوم اٹھا کب رات گئی کب دن جاگا کچھ ہوش ...
میرے گھر کے ہر کمرے میں ایک ہی چہرہ جھانک رہا ہے دیواروں پر عکس ہے اس کا دروازوں پر لمس ہے اس کا ہر آہٹ میں اس کی آہٹ ہر لمحے موجود ہے لیکن پھر بھی تیقن سوچ رہا ہے کون ہے میرے وہم کے گھر میں کون اندھیرے کھول رہا ہے، کون خموشی بول رہا ہے کس نے میرے درد کے دل کو ہاتھ کا مرہم بخش دیا ...
دور آنکھوں سے بہت دور، کہیں اک تصور ہے، جو بے زار کیے رکھتا ہے وہ کوئی خواب ہے یا خواب کا اندیشہ ہے جو مرے سوچ کو مسمار کیے رکھتا ہے دور، قسمت کی لکیروں سے بہت دور، کہیں ایک چہرہ ہے، ترے چہرے سے ملتا جلتا جو مجھے نیند میں بے دار کیے رکھتا ہے دور سے، اور بہت دور کی آوازوں سے ایک آواز ...
بہت دنوں سے اداس ہے دل بہت دنوں سے میں رو رہا ہوں مرا اثاثہ تو خواب تھے پر میں گہری نیندوں میں سو رہا ہوں میں ایک کردار بن گیا ہوں میں داستانوں میں کھو رہا ہوں یہ کیسا موسم ہے میرے دل میں گلوں میں کانٹے پرو رہا ہوں میں صاف ستھرا لباس لے کر گلی کے پانی سے دھو رہا ہوں میں اپنی حیرت کی ...
چلو مسافر، اداس شاموں کی رہ گزر میں ستارے، ڈھونڈیں چھلکتی آنکھوں میں زندگی کے جو بچ گئے ہیں وہ خواب ڈھونڈیں بھٹکتی گلیوں میں آبلوں کے گلاب دیکھیں پہاڑ سوچوں میں سبز رنگوں کے خواب دیکھیں چلو مسافر نشان منزل جو خواب سا ہے، جو آرزؤں کا حادثہ ہے اسی کے رستے میں کہکشائیں بکھیر دیں ...