میرا قرضہ ادا کرے کوئی
میرا قرضہ ادا کرے کوئی
تاک میں ہوں خطا کرے کوئی
گونج کی لہر سے نکل جاؤں
میں کہوں تو سنا کرے کوئی
کس کو طاقت ہے مسکرانے کی
بے وفا سے وفا کرے کوئی
اپنا احساس ہو رہا ہے مجھے
مجھ سے مجھ کو جدا کرے کوئی
یہ زمیں آسماں نہیں ساحلؔ
کس قدر حوصلہ کرے کوئی