میں شرمسار ہوں اپنے ضمیر کے آگے

میں شرمسار ہوں اپنے ضمیر کے آگے
کہ ہاتھ خالی تھا میرا فقیر کے آگے


مرا یقین تھا حد گمان کے اندر
کبھی بھی سوچا نہیں ہے لکیر کے آگے


کوئی تو جذبہ تھا مہجور کے خیالوں میں
پگھل رہی تھیں سلاسل اسیر کے آگے


چراغ سحری تھا لیکن عجیب روشن تھا
چمک رہا تھا وہ ماہ منیر کے آگے


میں کیسے اس کے لکھے پر یقین کر لیتا
قلم بھی گروی تھا جس کا امیر کے آگے


ہر ایک شخص تھا کمزور و ناتواں ساحلؔ
بدن دریدہ تھا ہر اک شریر کے آگے