لطف دنیا تو فقط دیدۂ نمناک میں ہے

لطف دنیا تو فقط دیدۂ نمناک میں ہے
شیخ صاحب کی نظر آج بھی افلاک میں ہے


جس نے تعمیر کیا مجھ کو لہو ہاتھوں سے
خاک ہو جاؤں کہ وہ شخص بھی اب خاک میں ہے


مجھ کو مجبور کیا ہے مری مجبوری نے
آج بھی میری انا کاغذی پوشاک میں ہے


میں جو بیمار ہوا اس نے عیادت کی ہے
خوئے رحمت بھی اسی قاتل سفاک میں ہے


اے دل ہجر زدہ مجھ کو نہ رسوا کرنا
شرم تھوڑی سی ابھی لہجۂ بے باک میں ہے


میری رسوائی میں شامل نہیں میرے چہرے
حاکم شہر مگر آج بھی اس تاک میں ہے


شہر بے مہر میں زندہ تھا فقط میں ساحلؔ
میرے احساس کا قاتل مری پوشاک میں ہے