جو شخص آب و ہوا پر یقین رکھتا ہے

جو شخص آب و ہوا پر یقین رکھتا ہے
وہ موسموں کی عطا پر یقین رکھتا ہے


تمام عمر محبت نہیں ملی جس کو
سنا ہے وہ بھی خدا پر یقین رکھتا ہے


چراغ اس کا کبھی بھی جلا نہیں لیکن
وہ آج تک بھی دعا پر یقین رکھتا ہے


ہمیشہ ٹوٹ کے آتا ہے میرے پہلو میں
وہ بے وفا بھی وفا پر یقین رکھتا ہے


کوئی غرض نہیں اس کو کسی سخاوت سے
فقیر اپنی صدا پر یقین رکھتا


ہزار اس کو سہارے ملیں مگر ساحلؔ
نا بینا اپنے عصا پر یقین رکھتا ہے