خالد کوٹی کی غزل

    اپنے ہی شہر میں اجنبی ہو گیا

    اپنے ہی شہر میں اجنبی ہو گیا دوستوں نے جو چاہا وہی ہو گیا غیر تو غیر اپنوں سے نسبت نہیں کس قدر خود غرض آدمی ہو گیا پیار اخلاص دل بستگی دلبری آج کل پیکر کاغذی ہو گیا قتل اس نے کیا اپنا کہہ کر مجھے سارے الزام سے بھی بری ہو گیا لوگ کیوں اس کو مغرور کہنے لگے پیدا جس میں شعور خودی ہو ...

    مزید پڑھیے

    وفا شعار نظاروں کی بات کرتے ہیں

    وفا شعار نظاروں کی بات کرتے ہیں خزاں میں رہ کے بہاروں کی بات کرتے ہیں نہ آسروں نہ سہاروں کی بات کرتے ہیں نقیب وقت وقاروں کی بات کرتے ہیں نظام عرش پہ جن کو یقیں نہیں وہ بھی زمیں یہ چاند ستاروں کی بات کرتے ہیں یہ تند و تیز ہوائیں یہ زور طوفاں کا بھنور کے بیچ کناروں کی بات کرتے ...

    مزید پڑھیے

    محبت میں تو جان و دل کا نذرانہ بھی ہوتا ہے

    محبت میں تو جان و دل کا نذرانہ بھی ہوتا ہے کف افسوس کو مل مل کے پچھتانا بھی ہوتا ہے تجھے پا کر یہ جانا عشق میں ساری خوشی پالی تجھے کھو کر یہ سمجھا اس میں غم کھانا بھی ہوتا ہے نہ پھولوں میں ہے رعنائی نہ تاروں میں ہے زیبائی بڑا بے کیف شام غم کا افسانہ بھی ہوتا ہے محبت میں جب اظہار ...

    مزید پڑھیے

    حسن کا ہے کیسا یہ بازار تیرے شہر میں

    حسن کا ہے کیسا یہ بازار تیرے شہر میں جس نے دیکھا ہو گیا بیمار تیرے شہر میں آ گئے ہیں ہم بھی اے سرکار تیرے شہر میں دل میں لے کے حسرت دیدار تیرے شہر میں تم پہ ہی موقوف ہے ذوق تجلی اس لئے عرش سے ہیں فرش تک انوار تیرے شہر میں جب وفا کا ذکر اپنوں نے کیا تو دفعتاً ہم کو یاد آنے لگے ...

    مزید پڑھیے

    غم زندگی کا تو غم نہیں کہ مجھے غموں سے ہی پیار ہے

    غم زندگی کا تو غم نہیں کہ مجھے غموں سے ہی پیار ہے ترا غم بھی مجھ کو عزیز ہے ترے غم میں لطف بہار ہے جو اداس آیا کوئی نظر تو خزاں پکاری بہ چشم تر مرے آنے کا کوئی غم نہ کر مرے بعد فصل بہار ہے تری بزم مے میں بہ صد خوشی جو پیا تھا بادۂ غم کبھی وہی جام ہے مری زندگی مجھے آج تک وہ خمار ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے مانا دل ہمارا آپ کے قابل نہیں

    ہم نے مانا دل ہمارا آپ کے قابل نہیں کیا اسے فریاد بھی کرنے کا حق حاصل نہیں جذبۂ الفت نہ ہو ایسا تو کوئی دل نہیں آشنائے غم نہیں تو زندگی کامل نہیں اس جہان آرزو سے دور جانا ہے تجھے جادہ پیمائی زمانے کی تری منزل نہیں حق بہاروں پر ہمارا بھی ہے اہل گلستاں کون سے گل میں ہمارا خون دل ...

    مزید پڑھیے

    بجھی بجھی سی طبیعت یہ رنگ لائی ہے

    بجھی بجھی سی طبیعت یہ رنگ لائی ہے کہ آج چاروں طرف میری جگ ہنسائی ہے نسیم صبح بتا تو ذرا خدا کے لئے یہ کس کے واسطے آخر بہار آئی ہے خدا ہی جانے وہ آئیں گے یا نہ آئیں گے سلام بھیج کے تقدیر آزمائی ہے تجلیٔ رخ زیبا سے ہوں اگر محروم مری خطا نہیں قسمت کی نارسائی ہے جہاں کا غم تو نہیں ...

    مزید پڑھیے

    مل جائے غم جاناں جس کو کچھ اس کو غم و آلام نہیں

    مل جائے غم جاناں جس کو کچھ اس کو غم و آلام نہیں یہ غم ہے وہ غم جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی آرام نہیں آرام سے ہم کو کیا نسبت ہے عزم جواں اعلیٰ ہمت منزل پہ پہنچ کر دم لیں گے یا صبح نہیں یا شام نہیں مے نوش تو ہوں مدہوش نہیں یہ بھی تو ہے پاس حسن ادب محفل میں ہے جام و مینا بھی گردش میں مگر ...

    مزید پڑھیے