حسن کا ہے کیسا یہ بازار تیرے شہر میں
حسن کا ہے کیسا یہ بازار تیرے شہر میں
جس نے دیکھا ہو گیا بیمار تیرے شہر میں
آ گئے ہیں ہم بھی اے سرکار تیرے شہر میں
دل میں لے کے حسرت دیدار تیرے شہر میں
تم پہ ہی موقوف ہے ذوق تجلی اس لئے
عرش سے ہیں فرش تک انوار تیرے شہر میں
جب وفا کا ذکر اپنوں نے کیا تو دفعتاً
ہم کو یاد آنے لگے اغیار تیرے شہر میں
کم نگاہی کا زمانے کی بھلا شکوہ ہی کیا
ہم سے تو اپنے بھی ہیں بیزار تیرے شہر میں
شام ہی سے ہے مری نظروں میں اے خالدؔ عیاں
صبح کا وہ حشر حال زار تیرے شہر میں