محبت میں تو جان و دل کا نذرانہ بھی ہوتا ہے

محبت میں تو جان و دل کا نذرانہ بھی ہوتا ہے
کف افسوس کو مل مل کے پچھتانا بھی ہوتا ہے


تجھے پا کر یہ جانا عشق میں ساری خوشی پالی
تجھے کھو کر یہ سمجھا اس میں غم کھانا بھی ہوتا ہے


نہ پھولوں میں ہے رعنائی نہ تاروں میں ہے زیبائی
بڑا بے کیف شام غم کا افسانہ بھی ہوتا ہے


محبت میں جب اظہار محبت پہ ہو پابندی
تو دل کی بات کو آنکھوں سے سمجھانا بھی ہوتا ہے


یہ تیری بے رخی تیرا تغافل بیکلی تیری
انہیں اشکال میں اس دل کو بہلانا بھی ہوتا ہے


شباب حسن پہ زیبا نہیں ہے ناز اے خالدؔ
کلی جب پھول بنتی ہے تو مرجھانا بھی ہوتا ہے