بجھی بجھی سی طبیعت یہ رنگ لائی ہے
بجھی بجھی سی طبیعت یہ رنگ لائی ہے
کہ آج چاروں طرف میری جگ ہنسائی ہے
نسیم صبح بتا تو ذرا خدا کے لئے
یہ کس کے واسطے آخر بہار آئی ہے
خدا ہی جانے وہ آئیں گے یا نہ آئیں گے
سلام بھیج کے تقدیر آزمائی ہے
تجلیٔ رخ زیبا سے ہوں اگر محروم
مری خطا نہیں قسمت کی نارسائی ہے
جہاں کا غم تو نہیں ہے مگر مجھے خالدؔ
خدا کا خوف بھی ہے اور غم خدائی ہے