غم زندگی کا تو غم نہیں کہ مجھے غموں سے ہی پیار ہے
غم زندگی کا تو غم نہیں کہ مجھے غموں سے ہی پیار ہے
ترا غم بھی مجھ کو عزیز ہے ترے غم میں لطف بہار ہے
جو اداس آیا کوئی نظر تو خزاں پکاری بہ چشم تر
مرے آنے کا کوئی غم نہ کر مرے بعد فصل بہار ہے
تری بزم مے میں بہ صد خوشی جو پیا تھا بادۂ غم کبھی
وہی جام ہے مری زندگی مجھے آج تک وہ خمار ہے
کبھی شکوہ تیرے ستم کا ہے کبھی شکر تیرے کرم پہ ہے
رہ و رسم عشق بھی خوب ہے نہ سکون ہے نہ قرار ہے
نہ تو چھیڑ اب مری داستاں مرے ہم نفس مرے ہم زباں
میں وہی ہوں خالدؔ خستہ جاں کہ جو زندگی کو بھی بار ہے